کٹھمنڈو، 20 مارچ ۔ تنازعات سے گھرے وزیر داخلہ روی لامیچھانے کو لے کر نیپال کی پارلیمنٹ میں تین دن سے تعطل برقرار ہے۔ حزب اختلاف کی مرکزی جماعت نے پارلیمنٹ نہیں چلنے دینے کا بھی انتباہ دیا ہے۔
نیپالی کانگریس کے جنرل سکریٹری گگن تھاپا نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ لامیچھانے کے کوآپریٹو بینک سے غیر قانونی قرض لینے کے ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ اس لیے انہیں وزیر داخلہ کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔ وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔ جانچ کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دی جائے یا مشترکہ پارلیمانی انکوائری کمیٹی بنائی جائے۔
نیپالی کانگریس کے چیف وہپ رمیش لیکھک نے بدھ کے روز کہا کہ ایوان کو اس وقت تک کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جب تک عدالتی کمیشن یا مشترکہ پارلیمانی جانچ کمیٹی نہیں بن جاتی۔ قبل ازیں اسپیکر نے ایوان کو احسن طریقے سے چلانے کے لیے آل پارٹی اجلاس طلب کیا۔ اجلاس میں اپوزیشن کا رویہ جوں کا توں رہا۔ حالانکہ حکمراں پارٹی کے رہنما روی لامیچھانے کا دفاع کرتے نظر آئے۔
منگل کو وزیر اعظم پرچنڈ نے پارلیمنٹ میں ایک بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ روی لامیچھانے کے خلاف پولیس ایف آئی آر کے علاوہ کوئی ثبوت نہیں ہے۔ اس لیے ان کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ حکمراں اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی این سی پی-ایم ایل کے صدر کے پی شرما اولی نے بھی لامیچھانے کا دفاع کیا ہے۔
