پٹنہ، 10 نومبر(ہ س)۔
بہار کے سیتامڑھی میں لڑکی کی عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا ۔ لڑکی کے ساتھ یہ درندگی رشتے میں لگنے والے چچا نے کی۔ لڑکی کی لاش اس کے گاؤں سے آدھا کلومیٹر دور گنے کے کھیت سے ملی۔ واقعہ ضلع کے میجربنج تھانہ علاقے کے ایک گاؤں میں پیش آیا۔ پولیس کے ڈاگ سکواڈ کی مدد سے لڑکی کی لاش نکال لی گئی۔ لڑکی بدھ کی شام سے لاپتہ تھی۔ پولیس نے معاملے میں ملزم نوجوان کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس نے قتل کا اعتراف کر لیا ہے۔
پولیس سے ملی اطلاع کے مطابق لڑکی بدھ کی شام سے لاپتہ تھی۔ گھر والوں نے بہت تحقیق کی۔ نہ ملنے پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے گاؤں کے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر اس معاملے میں پوچھ گچھ شروع کر دی۔ شروع میں وہ جھوٹ بولتا رہا لیکن بعد میں صدر ایس ڈی پی او رام کرشنا کی پوچھ گچھ کے دوران اس نے لڑکی کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے لاش کو گنے کے کھیت میں پھینکنے کی اطلاع دی۔
بعد میں ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے لڑکی کی لاش نکال لی گئی۔ متوفی کی والدہ کے بیان کی بنیاد پر مقامی تھانہ میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس میں ملزم کے خلاف عصمت دری اور قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔ ملزم دو روز قبل یہاں اس کے گھر آیا تھا۔ اسے بدھ کی شام لڑکی کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ وہ لڑکی کو بسکٹ کھلا رہا تھا۔ اسے بہلا پھسلاکر اسے گنے کے کھیت میں لے گیا، اس کی عصمت دری اور پھر گلا دبا کر قتل کر دیا۔
اس معاملے کے بارے میں صدر ڈی ایس پی رام کرشنا نے کہا کہ پورے معاملے کی سائنسی طریقے سے جانچ کی جا رہی ہے۔ جائے وقوعہ اور ملزمین کے فرانزک نمونے حاصل کر کے تفتیش کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ معاملہ عصمت دری کے بعد قتل کا لگتا ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی زیادتی کا پتہ چل سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کی دیررات ایک پانچ سالہ بچی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی۔
ہندوستھان سماچار/ افضل
/عطاءاللہ
