
نئی دہلی، 4 نومبر (ہ س)۔ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے ہفتہ کو تلنگانہ میں بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا نام تبدیل کرنے سے کے سی آر اور کے ٹی آر کی بدعنوانی چھپے نہیں رہے گی۔ تلنگانہ کے عوام کا جوش و خروش ظاہر کرتا ہے کہ ہوا تلنگانہ میں بی آر ایس کے خلاف ہے۔ یہاں کے لوگ کے سی آر کی حکمرانی سے تنگ آچکے ہیں۔ لوگ ایک ایماندار اور ترقیاتی حکومت چاہتے ہیں، جو صرف بی جے پی دے سکتی ہے۔
مرکزی وزیر نے کہا کہ کویتا کا نام دہلی ایکسائز پالیسی کیس میں سامنے آیا ہے اور تحقیقاتی ایجنسیاں اس کی جانچ کر رہی ہیں۔ دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور راجیہ سبھا کے رکن کو بھی نہیں بخشا گیا۔ دہلی کے وزیر اعلیٰ کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ کویتا کی باری بھی جلد آئے گی۔ انوراگ ٹھاکر نے یہ بھی کہا کہ تلنگانہ میں کالیشورم آبپاشی پراجکٹ میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات کی جائیں گی اور سخت کارروائی کی جائے گی۔ کے سی آر پر حملہ کرتے ہوئے ٹھاکر نے کہا کہ انہوں نے نہ تو نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا اور نہ ہی 3000 روپئے کا بے روزگاری الاؤنس دیا۔
ہندوستھان سماچار
