ستمبر ۲۰۲۵ کے پہلے ہفتے میں نئی دہلی کے یشوبھومی انٹرنیشنل کنونشن اینڈ ایکسپو سینٹر میں سیمی کان انڈیا ۲۰۲۵ کا انعقاد ہوا۔ یہ صرف ایک صنعتی کانفرنس نہیں تھی بلکہ ایک واضح اعلان تھا کہ بھارت اب صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں رہے گا بلکہ تخلیق کار، صنعت کار اور دنیا کا ایک معتبر شراکت دار بننے جا رہا ہے۔
BulletsIn
-
بھارت کا وژن – ٹیکنالوجی کا صرف درآمد کنندہ نہیں بلکہ سیمی کنڈکٹرز میں پیداوار اور جدت کا عالمی مرکز بننے کا عزم۔
-
وسیع شرکت – ۳۰ سے زائد ممالک، ۳۵۰+ کمپنیاں اور ۲۰,۰۰۰ سے زیادہ شرکاء نے حصہ لیا۔
-
پہلا بھارتی خلائی چِپ “وِکرم” – ISRO کا تیار کردہ ۳۲-بِٹ پروسیسر جو سیٹلائٹ، راکٹ، دفاعی نظام اور جدید گاڑیوں کو طاقت دے گا۔
-
آسام کی شراکت – جگیروڈ میں ٹاٹا OSAT چِپ اور NIT شلچر کا بنایا ہوا “Neural Amplifier Frontend IC” پیش کیا گیا، جو طبی اور برین-کمپیوٹر انٹرفیس میں استعمال ہوگا۔
-
گجرات میں مینوفیکچرنگ مرکز – سانند میں CG-Semi کی OSAT پائلٹ لائن قائم، جو بھارت کے فلیس ڈیزائن اسٹارٹ اپس کی مدد کرے گی۔
-
حکومتی منصوبے – DLI اسکیم کے تحت ۲۳ چِپ ڈیزائن پروجیکٹس کی منظوری، ساتھ ہی ۷۶,۰۰۰ کروڑ روپے سے زائد کا PLI پروگرام۔
-
تعلیمی تعاون – نیویارک کی یونیورسٹی ایٹ البانی اور بنگلور کی رامایہ یونیورسٹی کے درمیان شراکت، جنوری ۲۰۲۶ سے سیمی کنڈکٹر سرٹیفیکیشن پروگرام شروع ہوگا۔
-
عالمی منظرنامہ – تائیوان (TSMC) مینوفیکچرنگ میں، جنوبی کوریا (Samsung) میموری میں، امریکہ (Intel, NVIDIA, Qualcomm) ڈیزائن میں، یورپ اپنے “Chips Act” کے ساتھ۔ بھارت ایک قابلِ اعتماد متبادل کے طور پر اُبھر رہا ہے۔
-
نوجوانوں کے لیے مواقع – سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ، ٹیسٹنگ، AI، الیکٹرک گاڑیاں اور ہیلتھ ٹیکنالوجی میں ہزاروں نوکریاں اور انٹرنشپ، اسٹارٹ اپس کو سرمایہ اور رہنمائی۔
-
مستقبل کی سمت – بھارت دنیا کے بڑے درآمد کنندہ ملک سے ایک اہم پروڈیوسر اور ایکسپورٹر بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مستقبل کے “ڈیجیٹل ہیرے” بھارت سے چمک سکتے ہیں۔
