ورلڈ کپ سیمی فائنل : نیوزی لینڈ سے 2019 میں ملی شکست کا بدلہ لینا چاہے گی بھارتی ٹیم
نئی دہلی، 14 نومبر (ہ س)۔ ہندوستان ورلڈ کپ میں ناقابل شکست ہے اور ان کی کارکردگی دلچسپ رہی ہے۔ بلے بازی شاندار رہی اور تیز گیندبازوں نے بھی اپنا کام بخوبی نبھایا ہے۔
ہندوستان نے 2023 کے ورلڈ کپ پر دبدبہ بنایا ہے، اپنے گروپ مرحلے کے تمام نو میچ جیتے ہیں اور وہ ٹورنامنٹ میں واحد ناقابل شکست ٹیم ہے۔ ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں بدھ کو ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں مین ان بلیو کا مقابلہ نیوزی لینڈ سے ہوگا۔ جب ہندوستانی ٹیم اس میچ کے لیے میدان میں اترے گی تو اس کا مقصد 2019 میں نیوزی لینڈ کے ہاتھوں ملی شکست کا بدلہ لینا ہوگا۔
سیمی فائنل میں ہندوستان کا راستہ اس بار بہت زیادہ منظم نظر آرہا ہے، جس سے اس کے حامیوں کو زیادہ امید ہوگی۔ سب سے اہم تبدیلی گھریلو ٹیم کے لیے بلے بازی ٹیمپلیٹ میں کی گئی ہے۔
اس ورلڈ کپ میں ہر ہٹر نے مستعدی کا احساس کرایا، جس سے ہندوستان کی مجموعی اسکورنگ کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ سابق کپتان وراٹ کوہلی ٹیم میں واحد نامزد اینکر ہیں اور انہیں بلے بازی کے لیے کافی وقت دیا جاتا ہے۔ رنوں کے لیے ان کی شدید خواہش بتاتی ہے کہ جاری مقابلے میں ہندوستان نمبر 3 کے پاس کسی دیگر کے موازنے میں سب سے زیادہ رن (594) کیوں ہیں۔
ہندوستان کی مضبوط شروعات کے پیچھے کپتان روہت شرما رہے ہیں۔ روہت اس فارمیٹ میں رن مشین ہیں، انہوں نے اتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا کہ وہ 503 رن بنانے میں کامیاب رہے، جو ٹورنامنٹ میں چوتھا سب سے زیادہ رن ہے۔
بھارت کے اسٹار اوپنر شبھمن گل نے سات میچوں میں کھل کر بلے بازی کرتے ہوئے 290 رن بنائے ہیں۔ شریس ایر شارٹ گیندوں پر بار بار آؤٹ ہونے کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں ناکام ہو گئے۔ حالانکہ ایئر نے ممبئی میں سری لنکا کے خلاف شاندار نصف سنچری کے ساتھ شاندار واپسی کی۔ ٹورنامنٹ میں ان کے بہترین اسکور 82، 77 اور 128 ناٹ آؤٹ ہیں۔
لوئر مڈل آرڈر نے کریز پر اتنا وقت نہیں گزارا۔ نمبر 6 بلے باز سوریہ کمار یادیو نے انگلینڈ کے خلاف 49 اور جنوبی افریقہ کے خلاف 22 رن بنائے، جب کہ اسٹار آل راؤنڈر رویندر جڈیجا نے 35 اور ناٹ آوٹ 29 رن بنائے، دونوں نے ہاردک پانڈیا کی غیر موجودگی کو پورا کرنے کے لیے شاندار شراکت کی۔
دریں اثنا ہندوستان نے جاری ٹورنامنٹ میں اپنے ناقابل شکست ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہوئے ہالینڈ کے خلاف 160 رنوں کی زبردست جیت کے ساتھ لیگ راونڈ کا اختتام کیا۔
مین ان بلیو نے اس سال کے ورلڈ کپ میں لگاتار نو میچ جیتے ہیں، جس سے وہ 1983 اور 2011 میں پچھلی جیت کے بعد اپنے مجموعہ میں تیسری ٹرافی شامل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
دوسری جانب نیوزی لینڈ کی ٹیم کی اس ورلڈ کپ میں ملی جلی کارکردگی رہی ہے۔ پہلے چار میچ جیتنے کے بعد ٹیم اگلا چار میچ ہار گئی، حالانکہ ان میں سے کچھ میچ قریب تھے، خاص طور پر آسٹریلیا کے خلاف میچ جس میں کیویز نے 388 رن کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 383 رن بنائے اور صرف 5 رن سے میچ ہارگئی۔
نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی طاقت سلامی بلے باز رچن رویندر اور تیز گیند باز ٹرینٹ بولٹ ہیں۔ رچن رویندر نے ورلڈ کپ 2023 میں 9 میچوں میں سب سے زیادہ 565 رن بنائے ہیں۔ اس دوران ان کے بلے سے تین سنچریاں اور دو نصف سنچریاں بنیں۔ رچن نے گیند بازی میں بھی کارآمد شراکت کی ہے اور 5 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
وہیں ٹرینٹ بولٹ ابتدائی اوورز میں اپنی سوئنگ بولنگ سے وکٹیں لینے کے لیےجانا جاتا ہے جس سے ہندوستان کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
بھارتی ٹیم کو 2019 کا ورلڈ کپ بھی یاد ہوگا، جب کیوی ٹیم نے سیمی فائنل میں بھارت کو شکست دے کر کروڑوں بھارتیوں کے دل توڑ دیے تھے، وہ میچ بھی سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی کا آخری ون ڈے میچ ثابت ہوا۔ بھارت کا ہدف اس شکست کا بدلہ لینے کا بھی ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
