نئی دہلی، 16 اکتوبر ۔ انگلینڈ کے خلاف اتوار کی شاندار تاریخی جیت پر تبصرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ہیڈ کوچ جوناتھن ٹراٹ نے کہا ہے کہ اس جیت سے نہ صرف ٹیم کو بے پناہ اعتماد ملے گا بلکہ 50 اوور کی کرکٹ میں دوسری ٹیموں کے خلاف مقابلے میں ٹیم کا اثر بڑھے گا۔
رحمان اللہ گرباز کی 57 گیندوں پر 80 رنوں کی اننگز نے افغانستان کو تقویت بخشی جس کے بعد بھارت میں ورلڈ کپ کا اپنا پہلا میچ کھیلنے والے اکرام علی خیل (58) کی نصف سنچری نے افغان ٹیم کو واپسی دی۔ افغانستان کو 284 رنوں کے چیلنجنگ اسکور تک پہنچانے میں ان کی اننگز اہم رہی جس میں مجیب الرحمان اور راشد خان نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس کے بعد محمد نبی، مجیب اور راشد کی اسپن تکڑی نے انگلینڈ کی 10 میں سے 8 وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو 69 رنوں کی شاندار فتح دلائی۔
ٹراٹ نے میچ کے بعد کی پریس کانفرنس میں کہا، ”ہم نے سوچا تھا کہ ہمارے پاس اچھا اسکور ہوگا، لیکن ہمیں اچھی گیندبازی اور اچھی فیلڈنگ کرنی تھی اور ہم نے ایسا ہی کیا۔ اس لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ بہت خوش کن ہے اور امید ہے کہ یہ بہت کچھ دے گا۔ بڑے ممالک کے خلاف مقابلہ کرتے وقت اس سے کافی اعتماد آئے گا۔ اس کا اثر نہ صرف اس ورلڈ کپ میں بلکہ مستقبل میں دیگر تمام کھیلوں پر پڑے گا“۔
انھوں نے کہا کہ ”میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ دوسری ٹیمیں ہمیں قریب سے نہیں دیکھ رہی ہیں، ہو سکتا ہے وہ میچ کی ویڈیو دوبارہ دیکھیں، لیکن ہم ہر اپوزیشن کا احترام کرتے ہیں اور میں لوگوں کو یہ بتاتا ہوں لیکن ہم کسی سے نہیں ڈرتے، ہم یہاں ہر میچ کھیلنے اور جیتنے کے لیے آئے ہیں“۔
ٹراٹ کو امید ہے کہ یہ جیت افغانستان کے کرکٹ شائقین کے لیے دنیا بھر میں خوشی کا باعث بنے گی اور نوجوانوں کو اس کھیل میں حصہ لینے کی ترغیب دے گی۔
انہوں نے کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ میں کل یا پرسوں یہاں تھا، مجھے یاد نہیں آرہا ہے، اور کہ رہاہوں کہ یہ صرف کرکٹ نہیں ہے جس کے لیے لوگ کھیل رہے ہیں۔ بہت سے افغانی لوگ قدرتی آفات اور دیگر وجوہات کی مشکلات سے گزر رہے ہیں، اوراس لئے یہ جیت نہ صرف ہمارے مداحوں کے چہروں پر مسکراہٹ لا سکتی ہے بلکہ لڑکوں اور لڑکیوں کو کرکٹ بیٹ یا کرکٹ بال اٹھانے اور افغانستان میں جہاں بھی ہوں ،کرکٹ کھیلنے کی ترغیب دے سکتی ہے ، تویہ اسی طرح کا مقصد حاصل کر لیا گیا ہے“۔
