انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے افغانستان کے کپتان راشد خان کو ٹی-20 ورلڈ کپ 2024 کے دوران بنگلہ دیش کے خلاف اپنی ٹیم کی جیت کے موقع پر ساتھی کھلاڑی کے خلاف عدم اطمینان ظاہر کرنے پر سرزنش کی ہے۔ یہ واقعہ افغانستان کی اننگز کے آخری اوور میں پیش آیا جب راشد خان نے اپنے ساتھی کھلاڑی کریم جنت کے رن نہ لینے پر غصے میں بیٹ زمین پر پھینک دیا تھا۔
BulletsIn
- سرزنش کی وجہ: افغانستان کے کپتان راشد خان نے بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں اپنے ساتھی کھلاڑی کریم جنت کے رن نہ لینے پر بیٹ زمین پر پھینک دیا، جس پر انہیں سرزنش کی گئی۔
- آئی سی سی کا بیان: آئی سی سی نے راشد خان کو کھلاڑیوں اور عملے کے لیے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر قصوروار ٹھہرایا۔
- کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی: راشد خان پر آئی سی سی کے کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.9 کی خلاف ورزی کا الزام تھا، جس میں کسی کھلاڑی پر نامناسب انداز میں سامان پھینکنے کی ممانعت ہے۔
- ڈیمیرٹ پوائنٹ: راشد کے تادیبی ریکارڈ میں ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ کا اضافہ کیا گیا، جو 24 ماہ کے اندر ان کا پہلا جرم تھا۔
- واقعے کی تفصیل: افغانستان کی اننگز کے آخری اوور میں راشد خان نے دوسرا رن لینے کی کوشش کی، لیکن کریم جنت نے رن سے انکار کردیا۔
- راشد کا رد عمل: کریم جنت کے انکار پر راشد خان نے غصے میں آکر اپنا بیٹ زمین پر پھینک دیا۔
- افغانستان کی جیت: افغانستان نے اس میچ میں بنگلہ دیش کو شکست دے کر پہلی بار ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔
- جرم کا اعتراف: راشد خان نے اپنا جرم تسلیم کیا اور آئی سی سی میچ ریفری ریچی رچرڈسن کی تجویز کردہ سزا کو قبول کیا۔
- امپائرز کے الزامات: آن فیلڈ امپائر نتن مینن، لینگٹن روسرے، تھرڈ امپائر ایڈرین ہولڈاسٹاک، اور فورتھ امپائر احسن رضا نے راشد پر الزامات عائد کیے۔
- لیول 1 کی خلاف ورزی: لیول 1 کی خلاف ورزی پر کم از کم جرمانہ سرکاری سرزنش ہے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ کھلاڑی کی میچ فیس کا 50 فیصد اور ایک یا دو ڈیمیرٹ پوائنٹس ہو سکتے ہیں۔
