افغانستان سے ملی شکست پر بابر اعظم نے کہا، ’’یہ شکست افسوسناک ہے‘‘
چنئی، 24 اکتوبر (ہ س)۔ جاری ورلڈ کپ میں پیر کو ہمسایہ ملک افغانستان کے ہاتھوں 8 وکٹوں سے شکست کے بعد کپتان بابر اعظم نے کہا کہ ان کا گیندبازی اٹیک اچھا نہیں تھا۔ بھارت کے خلاف شکست کے بعد پاکستان کے گیند بازوں نے ایک بار پھر ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کیا اوروہ سست اور چیلنجنگ سے بھرے چنئی کی پچ پر 283 کے کل اسکور کا دفاع نہیں کر سکے۔
افغانستان نے پاکستان کو تینوں شعبوں میں شکست دے کر الٹ پھیر بھری جیت درج کی۔ یہ 50 اوور کرکٹ میں پاکستان کے خلاف افغانستان کی پہلی فتح تھی۔ بابر نے میچ کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ شکست افسوسناک ہے، ہم نے سوچا تھا کہ ہم نے بورڈ پر اچھا اسکور کھڑا کیا ہے، جس کا ہمارے گیندباز دفاع کر سکتے ہیں۔ تاہم ہمارے گیندباز توقعات کے مطابق کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے کیونکہ ہم درمیانی اووروں میں افغانستان کی وکٹیں لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے اور نہ ہی ہم اسکورنگ ریٹ کو کنٹرول کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ ایک بھی شعبہ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں، تو آپ ہارنے والے حصے پر پہنچ جاتے ہیں۔ ہم نے بہت بری فیلڈنگ بھی کی اور آسان رن بھی دیے جس کا خمیازہ ہمیں آخر میں بھگتنا پڑا۔ جہاں تک ہماری گیندبازی کا تعلق ہے، میں نے سوچا تھا کہ ہم نے اچھی شروعات کی لیکن درمیانی اووروں میں کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔
عبداللہ شفیق (58) اور بابر اعظم (74) کی نصف سنچریوں کے بعد افتخار احمد (27 گیندوں پر 40 رن) نے پاکستان کو مسابقتی اسکور تک پہنچا دیا۔
بابر نے کہا کہ ‘یہ شکست کافی افسوسناک ہے، ٹیم کے لیے اسے برداشت کرنا بہت مشکل تھا، ہمارا منصوبہ 290-280 کے اسکور تک پہنچانا تھا، جسے ہم حاصل کرنے میں کامیاب رہے، تاہم ہماری بولنگ اور فیلڈنگ اس کے مطابق نہیں تھی۔ اگر ہم ٹورنامنٹ میں ٹیموں کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان دونوں پہلوؤں میں بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ ہمارے اسپنرز نے اتنی مضبوطی سے بولنگ نہیں کی جتنی انہیں درمیانی اووروں میں کرنی چاہیے تھی۔ ہم نے کافی ڈاٹ گیندیں نہیں پھینکیں۔
پاکستانی کپتان نے تینوں شعبوں میں اپنی ٹیم کو آؤٹ کلاس کرنے پر افغانوں کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا، ’’افغانستان نے جس طرح کھیلا اس کا پورا کریڈٹ انہیں جاتا ہے۔ انہوں نے تینوں شعبوں میں ہم سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس کی وجہ سے وہ جیت گئے۔ ہم اپنی گیندبازی اور فیلڈنگ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ میں افغانوں کو ان کی بہترین کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے بہترین کرکٹ کھیلی۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ان کی ٹیم اس شکست سے سنبھلنے کی کوشش کرے گی اور جنوبی افریقہ کے خلاف اگلے میچ کے لیے تیار ہو گی۔ ان کے لیے ٹورنامنٹ میں رہنے کے لیے اگلا میچ جیتنا اہم ہوگا۔
پاکستان اب پوائنٹس ٹیبل پر پانچویں نمبر پر ہے اور اس ہفتے کے آخر میں پروٹیاز کے خلاف شکست کی ہیٹ ٹرک یقینی طور پر ان کے لیے ناک آؤٹ کے دروازے بند کر دے گی۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
