جموں ،15 اکتوبر (ہ س)، وادی میں پنڈتوں کے لیے علیحدہ وطن کے لیے لڑنے والی پنون کشمیر (پی کے) نے کہا ہے کہ کشمیر اور جموں کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ہندو شہریوں کے لیے خطرہ سنگین ہے۔پنون کشمیر جے چیئرمین ڈاکٹر اجے کرنگو نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہمارا خیال ہے کہ حکومت ہند کو مستقبل قریب میں جموں اور کشمیر میں اسلامی دہشت گردی میں ممکنہ اضافے کے لیے خود کو تیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پر حماس کا حالیہ حملہ جموں و کشمیر میں نسل کشی جہادی دہشت گردی کو تیز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر اجے نے کہا کہ کشمیر اور جموں میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ جہادی دہشت گردی ختم نہیں ہوئی ہے اور درحقیقت اپنی فوجی مہارت میں کہیں زیادہ نفیس ہو گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنا سنگین مضمرات کا باعث بنے گا۔کرنگو نے مزید کہا کہ کشمیر اور جموں کے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ہندو شہریوں کے لیے خطرہ سنگین ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے خطے میں جہادی دہشت گردی کے نظریاتی اور تزویراتی مواد کا گہری نظر سے مشاہدہ کرنے کے بعد پی کے زور کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس خطے میں سرگرم دہشت گردوں نے بار بار شہریوں کو نشانہ بنانے میں کوئی رحم نہیں کیا۔ درحقیقت عام شہری دہشت گردوں کی بلیک میلنگ کا اگلا نشانہ بنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت کشمیر کے ہندوؤں بشمول باقی ہندوستان سے وہاں جانے والے سیاحوں کو سب سے زیادہ غیر محفوظ بناتی ہے۔ پین اسلامی دہشت گردی مقامی معیشتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور مقامی اقتصادی سرگرمیوں کو استثنیٰ دینے کے لیے مسلم عوامی دباؤ سے بھی اس پر قابو نہیں پایا جائے گا۔ اب وقت آگیا ہے کہ خواہش مندانہ طرز عمل کو ترک کیا جائے اور جب تک دہشت گردی کو ہر سطح پر ختم نہیں کیا جاتا معمولاتِ زندگی سراب بنی رہے گی۔حکومت کو پنون کشمیر کے اُن کے مطالبے کو تسلیم کرنا ہی بہتر ہو گا ۔
اصغر/ہندوستھان سماچار
