علی گڑھ، 14 دسمبر(ہ س)۔
علی گڑھ تھانہ کوتوالی کے منشیانہ میں 8 دسمبر کو گولی لگنے سے زخمی ہوئی خاتون عشرت نگار (55) سالہ نے گذشتہ رات دم توڑ دیاجنھیں آج ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں شاہ جمال قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا،مزکورہ معاملے میں لاپروائی سے پستول انسپکٹر کے حوالے کرنے والے منشی سدیپ کمار کو بھی گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔وہیں انسپکٹر منوج شرما کی گرفتاری پر 20 ہزار روپے انعام کا اعلان کرنے کے بعد ڈی سی آر بی کے ذریعے تمام اضلاع میں اس کے پوسٹر بھیجے جا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق عشرت نگار ترکمان گیٹ چوکی کے علاقے ہڈی گودام کے ہارڈویئر/تالے کے تاجر شکیل خان کی بیوی تھی اور وہ پاسپورٹ کی تصدیق کے لیے اپنے بیٹے ایشان کے ساتھ کوتوالی گئی ہوئی تھی۔ دوپہر تقریباً 2.30 بجے وہ منشیانہ پہنچی اور وہاں موجود منشی (آفس پولیس اہلکار) سے بات کر رہی تھی۔ پھر منشی نے مال کھانہ سے انسپکٹر منوج شرما کے پاس اپنی سروس پستول نکالی۔ انسپکٹر نے وہیں کھڑے کھڑے چیک کرتے ہوئے پستول نکال دیا۔اس نے خدشہ ظاہر کیا کہ پستول کا چیمبر خالی ہے، لیکن ایک گولی تھی، جو سیدھی دروازے کی طرف کھڑی خاتون عشرت نگار کے سر میں جالگی جس سے وہ گولی لگتے ہی نیچے گر گئی۔ تب سے وہ میڈیکل کالج میں زیر علاج تھیں۔ منگل کو ڈاکٹروں نے دو گھنٹے تک کوشش کی اور اس کے سر کا آپریشن کر کے اسے صاف کیا۔ عشرت نگار کو پہلے دن سے ہی ہوش نہیں آیا اور وہ کوما جیسی حالت میں تھیں۔ عشرت نگار کی حالت گذشتہ روز دوپہر سے خراب ہونے لگی اور رات 10 بجے کے قریب انہیں مردہ قرار دے دیا گیا۔ جے این میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ایم حارث نے خاتون کی موت کی تصدیق کی ڈاکٹروں کے مردہ قرار دینے کے بعدانکا پوسٹ مارٹم وغیرہ کے عمل کو مکمل کرنے کے بعد لاش کو اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔علی گڑھ کے ایس ایس پی کلاندھی نیتھانی نے بتایا کہ منشی کو تفتیش میں مجرمانہ غفلت کا قصوروار پایا گیا ہے،محکمانہ تحقیقات میں انسپکٹر کو پستول دینے والے منشی سدیپ کمار کو بھی اس واقعہ کا ذمہ دار مانا گیا ہے۔ اسے واقعہ کے دن ہی معطل کر دیا گیا تھا۔ سی او فرسٹ ابھے پانڈے نے بتایا کہ اس پورے معاملے میں اٹاوہ فتح پور کے رہنے والے منشی سدیپ کے خلاف محکمہ جاتی تحقیقات کی گئی تھی۔ انکشاف ہوا ہے کہ سدیپ کے پاس پاسپورٹ کا کام نہیں تھا۔ پھر بھی اس نے خاتون کو تھانے بلایا۔ اسی دوران کانسٹیبل نے لاپرواہی سے پستول نکالا اور میگزین کو الگ کیے بغیر انسپکٹر کے حوالے کر دیا۔یاد رہے کہ حادثہ کے بعد سے ہی انسپکٹر اور کلرک دونوں ہی واردات کے بعد بھاگ گئے، جب کہ انہیں زخمی حالت میں خاتون کو اسپتال لے جانے میں مدد کرنی چاہیے تھی۔ اس تفتیش میں واقعہ سے پہلے اور بعد کے طرز عمل سے مجرمانہ غفلت کے ثبوت ملے ہیں جس کی بنیاد پر اسے جیل بھیجا گیا ہے۔ عدالت سے ناقابل ضمانت وارنٹ لینے کے ساتھ ساتھ مفرور انسپکٹر پر بیس ہزار روپے انعام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ سی اواول ابھے پانڈے نے تصدیق کی ہے کہ پوسٹر جاری کر دیا گیا ہے اور منشی کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار/
/عطاءاللہ
