سرحدی اضلاع پونچھ اور راجوری میں خشک سرد موسم کی وجہ سے لوگوں کی صحت متاثر
جموں،13 جنوری (ہ س)۔ سانس کی بیماری اور انفلوئنزا جیسے وائرل انفیکشن کے معاملات میں اضافے کے ساتھ جاری خشک سرد موسم نے انسانی صحت کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے ایسوسی ایٹڈ اسپتال میں درج معاملات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹروں نے لوگوں کو الرٹ رہنے اور خشک سردی سے تمام ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے جبکہ کرشی وگیان کیندر کے زرعی سائنسدان فصل کی پیداوار پر بڑے اثر کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں جموں و کشمیر کے دیگر حصوں کی طرح خشک سرد موسم جاری ہے۔ جی ایم سی راجوری میں شعبہ چیسٹ اینڈ ٹی بی کے ایچ او ڈی ڈاکٹر محمد زعیم خان نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے جی ایم سی راجوری اسپتال کے او پی ڈی میں مریضوں کی تعداد میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر زعیم نے کہا کہ اگرچہ سردیوں میں سانس کی بیماری اور انفلوئنزا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اس سال یہ صورتحال زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ بارش کی کمی کی وجہ سے یہ خشک سردی کا موسم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریضوں میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے زیادہ تر انفلوئنزا کے ساتھ سانس کی بیماری میں مبتلا ہیں جو بعض اوقات نمونیہ میں بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
