اترکاشی، 13 اگست (ہ س)۔ دھرالی میں قدرتی آفت کے بعد 5 اگست سے ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ دریں اثنا راحت اور بچاو کی ٹیموں کو خطرے کا الرٹ بھیجنے کے لیے سیٹیاں بجا کر خبردار کیا جا رہا ہے۔ اس کے لیے دو فوجیوں کو بالائی علاقے میں تعینات کیا گیا ہے جہاں سے سیلاب آیا تھا۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ دھرالی ریسکیو آپریشن میں مصروف این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں کو سیٹی کے ذریعے تیار کردہ وارننگ سسٹم کے ذریعے تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ کھیر گنگا کے بالائی علاقے میں دو فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے جو خطرے کی صورت میں سیٹیاں بجا کر لوگوں کو خبردار کریں گے۔
دھرالی میں کام کرنے والی تمام ایجنسیوں کے ٹیم کمانڈرز کو بتایا گیا ہے کہ سیٹی بجتے ہی سب محفوظ مقامات پر چلے جائیں گے۔ این ڈی آر ایف کے اسسٹنٹ کمانڈنٹ آر ایس دھپولا نے بتایا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے دھرالی میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اس کے تحت لاپتہ افراد کی تلاش جی پی آر مشین کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ این ڈی آر ایف اور ایم آر ٹی ٹیم کو کھیر گنگا کے بالائی علاقے میں سروے کے لیے بھیجا گیا ہے، جس نے بالائی علاقے میں بھاری ملبہ جمع ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ایسے میں کھیر گنگا کے کنارے دو فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ دوبارہ سیلاب آنے کی صورت میں دھرالی میں تلاش اور بچاو¿ کے کام میں لگی ٹیم کو محتاط کیا جا سکے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ وارننگ سسٹم کا بندوبست نہیں کر سکی
اتراکھنڈ میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور آفات کے اثرات کوکم کئے جانے کے بارے میں بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن آج بھی وارننگ سسٹم کے نام پر سیٹی سب سے بڑا سہارا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے پہلے بھی کئی بار وارننگ سسٹم تیار کرنے کی بات کی ہے لیکن زمینی سطح پر ابھی تک اس سلسلے میں کوئی پہل نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد
