حکومت کا انتباہ، احتجاجی مظاہروں سے دور رہیں جموں و کشمیر کے سرکاری ملازمین
جموں،4 نومبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر حکومت نے جمعہ کے روز ملازمین کو اپنے مطالبات کے حق میں کسی بھی قسم کے مظاہروں اور ہڑتالوں میں حصہ لینے سے روک دیا اور خبردار کیا کہ اگر کوئی ملازمین ایسے مظاہروں میں ملوث پایا گیا تو اُن کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ایک حکم نامے کے مطابق یہ بات سامنے آئی ہے کہ بعض ملازمین اپنے مطالبات کے حق میں مظاہروں اور ہڑتالوں کا سہارا لے رہے ہیں۔ حکومت نے جموں و کشمیر گورنمنٹ ایمپلائز (کنڈکٹ) رولز 1971 کے رول 20 (ii) کو لاگو کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم اپنی سروس سے متعلق کسی بھی معاملے کے سلسلے میں کسی بھی طرح کی ہڑتال کا سہارا نہیں لے گا اور نہ ہی کسی دوسرے ملازم کے اس عمل میں حوصلہ افزائی کرے گا۔
حکم کے مطابق قانون کی فراہمی محض اعلانیہ نوعیت کی نہیں ہے اور ایسے کسی بھی ملازم کے اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث پائے جانے کی صورت میں یقینی طور پر اس کے نتائج برآمد ہوں گے۔ لہذا تمام انتظامی سیکرٹریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ محکموں کے ملازمین کو یہ ہدایات دیں کہ وہ ایسے تمام غیر ضروری مظاہروں اور ہڑتالوں سے باز رہیں کیونکہ یہ سنگین بددیانتی اور بد سلوکی ہے۔ حکم میں مزید کہا گیا ہے کہ محکمے مظاہروں اور ہڑتالوں کے انعقاد میں ملوث پائے جانے والے ملازمین کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں گے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
