ٹرانسپورٹ سیکٹر کسی بھی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، اور جموں و کشمیر میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جہاں ریلوے نظام ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا۔ سی پی آئی (ایم) کے رکن اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے اسمبلی میں خطاب کے دوران ٹرانسپورٹ سیکٹر میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور ڈرائیوروں اور کنڈکٹرز کی فلاح و بہبود کے لیے ایک فلاحی بورڈ کے قیام کا مطالبہ کیا۔
BulletsIn
- محمد یوسف تاریگامی نے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو معیشت کا ایک اہم شعبہ قرار دیا۔
- انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں تقریباً 10 کروڑ افراد براہ راست یا بالواسطہ طور پر اس شعبے سے وابستہ ہیں۔
- ٹرانسپورٹ سیکٹر کا جی ڈی پی میں 4.5 فیصد حصہ ہے۔
- جموں و کشمیر میں ریلوے مکمل طور پر فعال نہ ہونے کے باعث روڈ ٹرانسپورٹ سب سے بڑا شعبہ ہے۔
- سڑکوں کے ذریعے ٹرانسپورٹ عوامی نقل و حرکت اور زرعی اجناس، خاص طور پر سیب کی ترسیل کے لیے ناگزیر ہے۔
- ڈرائیورز اور کنڈکٹرز سماجی تحفظ سے محروم ہیں اور ان کے حالات تشویشناک ہیں۔
- حکومت کو ان ورکرز کی فلاح و بہبود پر فوری توجہ دینی چاہیے۔
- تعمیراتی مزدوروں کی طرز پر ڈرائیوروں اور کنڈکٹرز کے لیے ایک فلاحی بورڈ قائم کیا جائے۔
- جموں اور سری نگر ایئرپورٹس پر ٹرانسپورٹ ورکرز کے لیے پارکنگ کی سہولیات ناکافی ہیں۔
- حکومت کو فوری اقدامات اٹھا کر ان مسائل کو حل کرنا چاہیے تاکہ ٹرانسپورٹ ورکرز کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
