جھانسی، 17 نومبر (ہ س)۔
اترپردیش میں جھانسی ضلع کے سکرار تھانہ علاقے کے ایک ٹھیکیدارکے ذریعے کرناٹک گئے قبائلی مزدوروں کو یرغمال بنا کر کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں جمعہ کو قبائلی برادری کے لوگوں نے جھانسی کے ضلع مجسٹریٹ سے مدد کی اپیل کی۔
قبائلی محلہ کے رہائشی نصیب خان اور کئی دوسرے لوگوں ضلع مجسٹریٹ اویناش کمار کے پاس پہنچے۔ نصیب خان نے بتایا کہ قبائلی علاقے سے کم از کم 70 مرد اور خواتین مزدوروں کو ایک ٹھیکیدار کی مدد سے 400 روپے اجرت دینے کے نام پر مہاراشٹر لے جایا گیا۔ وہاں ان نے تقریباً دو ماہ تک ایک گاؤں میں مزدوری کروائی گئی ۔ اس کے بعد انہیں اندور لے جانے کے نام پر ٹرک میں بھر کر اندور کے بجائے کرناٹک کے ایک ضلع میں رکھا گیا۔ وہاں انہیں یرغمال بنا کر مارا پیٹا جا رہا ہے اور پچھلے دو ماہ سے کھانے پینے کی اشیاء بھی نہیں دی جا رہی ہیں۔ مزدوروں کے ساتھ بچے بھی ہیں۔ قبائلی برادری کے لوگوں نے یہ بات جھانسی کے ضلع مجسٹریٹ کو بتائی ہے۔ قبائلی برادری کے لوگوں نے ایک میمورنڈم دے کر ضلع مجسٹریٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ یرغمال بنائے گئے مزدوروں کو رہا کروایا جائے اور انہیں واپس جھانسی لے جایا جائے۔
ہندوستھان سماچار//محمد
