ممبئی، 21 اکتوبر (ہ س)۔ پونے میں پولیس اس شخص سے پوچھ گچھ کر رہی ہے جس نے منشیات کے اسمگلر للت پاٹل کو میفیڈرون منشیات بنانے کا فارمولا دیا تھا۔ پولیس منشیات کے معاملے میں ناسک ضلع کے کئی جوہریوں سے بھی پوچھ گچھ کرنے جا رہی ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ للت پاٹل کو دسمبر 2020 میں منشیات کے ایک کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں پونے کی یرواڈا جیل میں رکھا گیا تھا۔ اس وقت کیمیکل انجینئر اروند کمار پرکاش چندر لوہارے بھی منشیات کے معاملے میں یرواڈا جیل میں سزا کاٹ رہے تھے۔ للت پاٹل کی یرواڈا جیل میں ہی اروند لوہارے سے دوستی ہوگئی اور لوہارے نے للت پاٹل کو میفیڈرون ڈرگ بنانے کا فارمولا دیا۔ فارمولا حاصل کرنے کے بعد للت پاٹل نے اپنے بھائی بھوشن پاٹل کے ساتھ مل کر ناسک میں میفیڈرون دوا بنانے کے لیے ایک کمپنی کھولی۔ جیل میں رہتے ہوئے للت پاٹل منشیات کا نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ سسون ہسپتال اور پولیس کو منشیات کے پیسے سے مینیج کرنے کے بعد ہی للت پاٹل پچھلے 9 مہینوں سے پونے کے سسون ہسپتال میں تھا۔ اس کے بعد 2 اکتوبر کو للت پاٹل ڈاکٹروں اور پولیس کو منشیات کی رشوت دے کر فرار ہو گیا تھا لیکن پولیس نے للت پاٹل کو چنئی کے ایک ہوٹل سے گرفتار کر لیا۔ پولیس نے ناسک میں للت پاٹل کی میفیڈرون ڈرگ کمپنی پر چھاپہ مارا تھا اور 150 کلو گرام میفیڈرون ڈرگ برآمد کیا تھا۔
اب تک کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھوشن پاٹل نے منشیات کی رقم سے ناسک جیولرس سے آٹھ کلو سونا خریدا تھا۔ پولیس اس کے پاس سے تین کلو سونا ضبط کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ پولیس تلاش کر رہی ہے کہ باقی سونا کہاں چھپا ہوا ہے۔ اس وجہ سے ناسک کے کئی دوسرے جوہریوں کے نام بھی پولیس کے شکنجے میں آئے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
