سرینگر، 29نومبر( ہ س )۔
حکام نے بتایا کہ یہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر میں ایک طالب علم کی سوشل میڈیا پوسٹ پر مبینہ طور پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہرین نے غیر مقامی طالب علم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔حکام نے بتایا کہ طلباء نے شہر کے نگین علاقے میں واقع ادارے کے دونوں دروازے بند کر دیے ہیں اور کیمپس کے اندر نعرے لگائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پولیس موقع پر پہنچ گئی ہے اور مظاہرین کو منانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جنہوں نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پوسٹ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ سوشل میڈیا پر پوسٹ شیئر کرنے پر طالب علم کے خلاف کارروائی کرنے پر غور کر رہا ہے۔
واضح رہے ٹی 20ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں ہندوستان کی ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست کے بعد 2016 میں مقامی اور باہر کے طلباء کے درمیان جھڑپوں نے انسٹی ٹیوٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔جب کچھ مقامی طلباء نے بھارت کی شکست کا جشن منانے کے لیے پٹاخے پھوڑے تو باہر کے طلباء نے احتجاج کیا جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں۔ تفصیلات کے مطابق آج کے احتجاج کے بعد آئی جی پی کشمیر نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں مظاہرین کو یقین دلایا گیا ہے کہ ملوث طالب علم کے خلاف کارروائی کی جائے گی، اور اس معاملے کو لے کر کیس بھی درج کیا گیا ہے۔۔۔
ہندوستھان سماچار
/عطاءاللہ
