عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی عدم بحالی پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا
جموں، 27 اکتوبر (ہ س)۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی بحالی میں ناکامی پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک عالمی سطح پر خود کو جمہوریت کی ماں کہنے میں فخر محسوس کرتا ہے لیکن وہی جمہوریت جموں و کشمیر تک پہنچنے میں ناکام ہے۔عبداللہ نے اِن باتوں کا اظہار پونچھ کے سرنکوٹ میں ایک روزہ مندوبین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
جموں و کشمیر میں جمہوریت کی کمی کی مذمت کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ پورا خطہ جمہوری حکومت کی عدم موجودگی میں اپنے بدترین دور کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ سال 2014 میں پچھلی بار اسمبلی انتخابات ہوئے تھے جس کو تقریباً ایک دہائی ہو چکی ہے۔ جموں و کشمیر بھر کے لوگ جمہوریت کی بحالی کے لیے اپنی جدوجہد میں متحد ہیں لیکن وہ لوگ حالات کی سنگینی پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
موجودہ بیوروکریٹک سیٹ اپ کی عوام دشمن پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے عمر نے بجلی کے بلوں میں اضافے، ٹول ٹیکس، مہنگائی اور راشن میں کمی کے نام پر لوگوں پر ظلم و ستم کا الزام عائد کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ پی ڈی ڈی پہلی بار ڈیجیٹل میٹر لائے۔ ان ڈیجیٹل میٹروں کو اسمارٹ میٹروں سے تبدیل ہوئے ابھی کچھ دن بھی نہیں ہوئے تھے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ڈیجیٹل میٹر پہلے کیوں لگائے گئے؟ ان پر خرچ ہونے والے کروڑوں روپے کا حساب کون دے گا؟۔ پانی کے نرخ ہر سال بڑھتے ہیں لیکن ہر جگہ پینے کے پانی کی اشد ضرورت ہے۔ جگہ جگہ سڑکوں کی حالت خراب ہے۔ سرنکوٹ تک سڑک کو کھولنے کا کام برسوں سے جاری ہے اور حکومت اسے مکمل کرنے میں کوئی سنجیدگی نہیں دکھا رہی ہے۔ حکومت کو صرف ایک چیز پر فخر ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے کونے کونے میں شراب کی دکانیں کھول چکی ہے۔
جموں و کشمیر میں انتخابات کے انعقاد پر حکومت کے سست رویے پر تنقید کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ ”نئی دہلی” کے لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان جمہوریت کی ماں ہے، لیکن جموں و کشمیر میں آتے ہی ماں کی محبت کا کیا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں آخری بار الیکشن 2014 میں ہوئے تھے، اس کے بعد 9 سال ہو چکے ہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ جموں و کشمیر کو انتخابات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔ لوگوں کو اپنی حکومت منتخب کرنے کا حق ہے۔ یہ واضح ہے کہ بی جے پی اندرونی حالات سے خوفزدہ ہیں اور عوام کا سامنا کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کرگل انتخابات کے نتائج کے بعد یہ خوف ضرور بڑھ گیا ہوگا۔ اس موقع پر سینئر لیڈر علی محمد ساگر، میاں الطاف، اجے سدھوترہ، رتن لال گپتا، عبدالغنی ملک، اعجاز جان، چوہدری نسیم لیاقت، ذیشان رانا اور یشو رچھپال سنگھ موجود تھے۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
