جموں ،19 دسمبر(ہ س)۔
انسداد بدعنوانی کی عدالت نے ایک سرکاری ملازم کو غیر متناسب اثاثہ جات کے معاملے میں قصوروار ٹھہرایا ہے اور اسے تین سال کی قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ اسپیشل جج انسداد بدعنوانی عدالت جموں طاہر خورشید رینہ نے غیر متناسب اثاثہ جات کیس میں جموں و کشمیر پریوینشن آف کرپشن ایکٹ2006 کے تحت سرکاری ملازم ناصر خان بٹھنڈی کو تین سال قید اور پچاس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔
حکم میں مزید بتایا گیا کہ اگر جرمانے کی رقم مجرم کی طرف سے دو ماہ کی مدت کے اندر ادا نہیں کی جاتی ہے، تو ڈسٹرکٹ کلکٹر مجرم کے غیر متناسب اثاثوں سے زمین کی آمدنی کے بقایا جات کے طور پر وصول کرے گا۔ جج نے ایس ایس پی اینٹی کرپشن بیورو جموں کو سنائی گئی سزا پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ ملزم کے خلاف عائد الزام میں کی گئی تصدیق کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ ناصر خان اُس وقت ڈی سی آفس جموں میں ایس او پلاننگ سیکشن کے طور پر تعینات تھے،اُس دوران اُنہوں نے غیر منقولہ جائیداد کی شکل میں بھاری اثاثے جمع کیے تھے۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ اس نے بدعنوانی میں ملوث ہو کر اور سرکاری ملازم کے طور پر اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے جائیداد حاصل کی اور 84,90,523 روپے کے غیر متناسب اثاثے اکٹھے کیے۔
اصغر/ہندوستھان سماچار/محمد
