پٹنہ،3 نومبر(ہ س)۔
بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے بی جے پی مخالف پارٹی اور لیڈروں کو ایک پلیٹ فارم پرلانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ نتیش کمار نے شروع میں بی جے پی مخالف پارٹیوں کو کولکتہ سے کنیا کماری تک پٹنہ میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا۔ لیکن جمعرات کے روز نتیش کمار نے سی پی آئی کے ایک پروگرام میں اسٹیج سے کہا کہ کانگریس کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، جس کے بعد بی جے پی مزید جارحانہ ہوگئی ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پر عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بنانے پر بہار بی جے پی کے ریاستی صدر سمراٹ چودھری نے کہا کہ انڈیا اتحاد کا نہ ماضی ہے، نہ حال ہے اور نہ ہی کوئی مستقبل ہے۔
سمراٹ چودھری نے کہا کہ وزیراعلیٰ نتیش کمارنے بالآخر یہ تسلیم کرلیا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے نریندرمودی کے خلاف جو انڈیا اتحاد بنایا تھا، اس کا نہ کوئی ماضی تھا ،نہ حال اور نہ ہی مستقبل ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ کانگریس صرف پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ ساتھ ہی اکھلیش یادو اور عمر عبداللہ نے بھی انڈیا اتحاد سے گریز کا واضح پیغام دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کا یہ اعتراف ان کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس نتیش کمار کو اہمیت نہیں دے رہی ہے اور منگیری لال کا وزیر اعظم بننے کا خوبصورت خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔ سمراٹ چودھری نے الزام لگایا کہ نتیش کمار کی پریشانی کی اصل وجہ یہ ہے کہ عوام اب صاف طور پر سمجھ چکے ہیں کہ موقع پرستوں، بدعنوان، بد اخلاق، خاندانی پارٹیوں کا انڈیا اتحاد کہلانے والا گھڑا اب اپنی خود غرضی اور دھوکہ دہی کی سیاست کی وجہ سے پھٹ چکا ہے۔
یہ انڈ یا اتحاد وہ کاٹھ کی ہانڈی تھی جس کا پھٹ جانا اس کی پیدائش سے ہی طے تھا، کیونکہ اس اتحاد میں نہ کوئی اخلاقیات تھی نہ پالیسی اور نہ ہی کوئی قیادت۔ ایک انار، سو بیمار کے محاورے پر پورا اترنے والا یہ اتحاد دراصل اپنے خاندانوں کو بچانے اور اپنا سیاسی میدان دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کا محض ایک اجتماع تھا۔ بی جے پی کا الزام ہے کہ نتیش کمار کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اخلاقیات کو اہمیت دینے والی ہندوستانی عوام اپنا مستقبل صرف نریندر مودی کے ہاتھ میں ہی محفوظ سمجھتی ہے۔ انتخابی سیاست میں مودی جی کے مقابلے انڈ یا اتحاد کے تاریک مستقبل کے پیش نظر نتیش کمار کا بیان ان کی مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار/افضل/محمد
