امپھال، 27 جون (ہ س)۔
منی پور پولیس نے دو دنوں تک کئی ٹارگٹڈ آپریشنز میں کالعدم عسکریت پسند گروپوں سے وابستہ چار افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے ایک اسلحہ ڈیلر کو بھی گرفتار کیا ہے جس سے اسلحہ، کارتوس اور دیگر اشیاء برآمد ہوئی ہیں۔ یہ تمام گرفتاریاں امپھال ویسٹ، امپھال ایسٹ اور تھوبل اضلاع سے کی گئی ہیں۔ محکمہ کے حکام نے جمعہ کو اس کی تصدیق کی ہے۔
پولیس کے ہاتھوں پکڑے جانے والوں میں 25 سالہ محمد ہیلن بھی شامل ہے جسے تھوبل ضلع سے پکڑا گیا تھا۔ حکام کے مطابق ہیلن مایانگ امپھال کے باشندوں میں ہتھیار لہرا کرخوف پیدا کر رہا تھا۔ اسے پولیس نے بدھواری بازار کے قریب سے حراست میں لیا اور جب اس کی تلاشی لی گئی تو اس کے پاس سے 4 زندہ کارتوس، ایک .32 کیلیبر پستول، جعلی میگزین کے ساتھ ایک ڈمی بندوق اور کئی دیگر اشیائ برآمد ہوئیں۔
دریں اثنا، انسداد بغاوت کی ایک مربوط کوشش میں، سیکورٹی فورسز کی ایک ٹیم نے تین عسکریت پسندوں کو حراست میں لے لیا۔ 37 سالہ شاندھم رومن سنگھ، جس پر کانگلیپک کمیونسٹ پارٹی (پی ڈبلیو جی) کا حصہ ہونے کا شبہ ہے، کو امپھال ویسٹ کے علاقے وانگوئی سے حراست میں لیا گیا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ وہ وادی کے علاقوں میں شہریوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے رقم بٹورنے میں ملوث تھا۔
اسی سلسلے میں، ایک اور مشتبہ، 43 سالہ لوکراکپم پریم دیوی، جس کا تعلق آر پی ایف-پی ایل اے سے ہے، کو سنگجمی میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ وہ لیمفیل ڈپٹی کمشنر آفس کے ملازمین اور کئی کورئیر ایجنسیوں سے جبراً رقم کی وصولی کر رہا تھا۔
دریں اثنا، سیکورٹی اہلکاروں نے امپھال ایسٹ میں پورمپٹ میں ایک رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور 26 سالہ تھنگجام پورنبا سنگھ کو گرفتار کیا، جس کا تعلق پریپک (پی آر او) سے بتایا جاتا ہے۔
یہ تمام گرفتاریاں بغیر کسی مزاحمت کے کی گئیں اور افسران نے حراست میں لیے گئے افراد میں سے ہر ایک سے موبائل فون اور شناختی دستاویزات برآمد کیں۔ پولیس نے الگ الگ ایف آئی آر درج کی ہیں اور ریاست میں وسیع عسکریت پسندوں اور اسلحہ کی سپلائی کے نیٹ ورک کے بارے میں مزید تفتیش شروع کی ہے۔ یہ کارروائیاں منی پور میں عسکریت پسند گروپوں اور غیر قانونی ہتھیاروں کے پھیلاو¿ کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مسلسل کریک ڈاو¿ن کی عکاسی کرتی ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ
