بھوپال، 3 دسمبر (ہ س)۔ دنیا کے بدترین صنعتی سانحات میں سے ایک بھوپال گیس سانحہ کی آج (اتوار) 39 ویں برسی ہے۔ اس موقع پر متاثرین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے مختلف مقامات پر پروگرام منعقد کیے جائیں گے، جس میں جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ضلع انتظامیہ کی جانب سے سدبھاونا سبھا کا بھی انعقاد کیا جا رہا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سال 1984 میں 2 اور 3 دسمبر کی درمیانی رات کو راجدھانی بھوپال میں یونین کاربائیڈ فیکٹری میں زہریلی گیس میتھائل آئسوسیانائیڈ کا اخراج ہوا تھا۔ ایک تحقیق کے مطابق یونین کاربائیڈ فیکٹری میں تقریباً 45 منٹ میں 30 میٹرک ٹن گیس کا اخراج ہوا جو پورے شہر میں پھیل گئی۔ اس سانحے میں 15 ہزار سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جب کہ لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوئے تھے۔
مذکورہ زہریلی گیس سے متاثرہ افراد اور ان کے اہل خانہ آج بھی اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ اس سانحہ کے متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ادھر ملزم کمپنی ڈاو کیمیکل کے خلاف بھوپال کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ جبکہ مرکزی ملزم اینڈرسن کی موت ہو چکی ہے۔
بھوپال گیس سانحہ کے ذمہ داروں کو سزا دلانے کے لیے مقدمہ ابھی تک عدالتوں میں زیر التوا ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ 6 جنوری دی گئی ہے۔ ایسا 39 سال میں پہلی بار ہوا جب ملزم کمپنی کے نمائندے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔ اس کے لیے انہیں سات مرتبہ طلب کیا گیا۔ کمپنی کے نمائندوں کا موقف ہے کہ ڈاؤ کیمیکل ایک امریکی کمپنی ہے اور اس کے خلاف بھارتی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار//سلام
