مہاراشٹر میں کئی مقامات پر کانگریس کارکنان بائیں بازو کی رہنمائی میں تربیت لے رہے ہیں
ناگپور، 22 اکتوبر (ہ س)۔ آئندہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر کانگریس بائیں بازو کے لیڈروں کی مدد سے اپنے کارکنوں کو تربیت دے رہی ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ناگپور سمیت مہاراشٹر کے مختلف حصوں میں اس طرح کے تربیتی پروگرام جاری ہیں۔ کمیونسٹ اور کانگریس کے درمیان اس طرح کے اتحاد کی وجہ سے وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ الزام کہ کانگریس پر شہری نکسلائٹس کا کنٹرول ہے، ایک بار پھر سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے 25 ستمبر کو مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں ایک ریلی میں کہا تھا کہ کانگریس ایک کمپنی بن گئی ہے اور پارٹی نے پالیسیوں، خیالات اور منصوبوں کو آؤٹ سورس کرنا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے الزام لگایا تھا کہ شہری نکسلائیٹ کانگریس کو چلا رہے ہیں۔ بائیں بازو کے ذریعے کانگریسیوں کی تربیت سے وزیر اعظم کے الزام کو تقویت ملتی ہے۔ بہت سے کانگریسی لیڈران تو دھیمی آواز میں کہتے ہیں کہ کانگریس کا ’’بھارت جوڑو ابھیان‘‘ بائیں بازو کے تصور پر مبنی تھا۔
کانگریس عہدیداروں نے بتایا کہ تشار گاندھی اور یوگیندر یادو نے ناگپور کے کستوربا بھون میں کانگریس عہدیداروں کی کونسلنگ کی ہے۔ اس دوران کانگریس کی بھارت جوڑو مہم کے تحت ‘لوک سبھا مشن 24’ نام کی تربیتی کلاس کی سگبگاہٹ تیز ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رتناگیری اور ناگپور میں تین روزہ آن لائن اور دو روزہ آف لائن ٹریننگ دی گئی ہے۔
اس میں بائیں بازو کے مفکرین نے بتایا ہے کہ آئندہ لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے بوتھ سے اسمبلی حلقہ تک کیسے منصوبہ بنایا جانا چاہیے۔ انہیں یہ بھی سمجھایا گیا کہ حکومت سے غیر مطمئن لوگ اس میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں کو ڈھونڈ کر ایک مضبوط نیٹ ورک بنایا جا سکتا ہے۔نوجوانوں، طلبہ اور مزدوروں کو اس نیٹ ورک سے باآسانی منسلک کیا جا سکتا ہے، تاکہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مہم چلائی جا سکے۔قانونی ماہرین اور سوشل میڈیا پر سرگرم لوگوں کو آپس میں جوڑ کر ہم مقصد کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ تربیت حاصل کرنے والوں کو بھیجے گئے پیغام میں خاص طور پر اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ کیمپ میں یوگیندر یادو، ششی کانت سینتھل، الکا مہاجن، سنجے گوپال وغیرہ ماہر رہنما کے طور پر موجود رہیں گے۔ اس اتحاد پر سینئر صحافی اور سیاسی تجزیہ کار ایل ٹی جوشی کا کہنا ہے کہ جب بھی کانگریس اور لیفٹ اکٹھے ہوئے ہیں، ملک کو کچھ نہ کچھ نقصان ضرور ہوا ہے۔ بائیں بازو نے 68-1967 میں اندرا گاندھی کی اقلیتی حکومت کو غیر مشروط حمایت دی اور بدلے میں تمام سماجی اور تعلیمی اداروں پر قبضہ کر لیا۔ اب راہل گاندھی کی کانگریس بائیں بازو کے ساتھ چین کی پہل اور مدد سے آگے بڑھ رہی ہے۔ سیاست میں ہر چیز کی قدر ہوتی ہے۔ اور اس اتحاد کی قیمت ہندوستان اور ہندوستانی سماج کوچکانی پڑے گی۔
ہندوستھان سماچار//سلام
