جمعیة علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے وقف املاک سے متعلق بیان پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مولانا مدنی نے اس بیان کو گمراہ کن اور حقیقت سے بعید قرار دیتے ہوئے کہا کہ وقف جائیدادوں کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وقف املاک ہمیشہ فلاحی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان سے اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
BulletsIn
- مولانا محمود اسعد مدنی نے یوگی آدتیہ ناتھ کے وقف املاک سے متعلق بیان کو گمراہ کن اور آئینی عہدے کی پامالی قرار دیا۔
- انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بیان اقلیتوں کے خلاف تعصب کو ہوا دیتا ہے۔
- مولانا مدنی نے وضاحت کی کہ وقف املاک مساجد، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، یتیم خانوں اور ضرورت مندوں کی مدد کے لیے وقف ہیں۔
- وقف بورڈ 1954 کے وقف ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا اور یہ ریاستی حکومتوں کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔
- مولانا مدنی نے کہا کہ یوپی وقف بورڈ اور سینٹرل وقف کونسل حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔
- وزارت اقلیتی امور نے پارلیمنٹ میں تسلیم کیا کہ 58929 وقف جائیدادیں تجاوزات کا شکار ہیں۔
- مولانا مدنی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا بیان ملک کے قانون اور آئین کی توہین کے مترادف ہے۔
- انہوں نے کہا کہ وقف کی زمینیں ہمیشہ غریبوں اور مستحق افراد کے فائدے کے لیے وقف کی جاتی رہی ہیں۔
- مولانا مدنی نے حکومت کو متوجہ کیا کہ وہ وقف کے مسائل پر آئینی اور قانونی حقوق کا احترام کرے۔
- انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ وقف بورڈز کو مزید مضبوط بنائے اور زمینوں کا استعمال اصل فلاحی مقاصد کے لیے یقینی بنائے۔
