اسکول کے پرنسپل، ٹرسٹی، کلکٹر اور میونسپل کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
وڈودرہ، 20 جنوری (ہ س)۔
وڈودرہ کے ہرنی تالاب کشتی حادثہ کیس میں سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی گئی ہے۔ درخواست میں اسکول کے پرنسپل، ٹرسٹیوں کے ساتھ کلکٹر اور میٹرو پولیٹن میونسپلٹی کمشنر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
18 جنوری کی شام ہرنی تالاب میں کشتی الٹنے سے 12 بچوں سمیت کل 14 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس معاملے میں انتظامیہ کی لاپرواہی کھل کر سامنے آئی ہے۔ کشتی میں بچوں کو لائف جیکٹس کے بغیر بٹھایا گیا تھا، جب کہ کشتی کے ڈرائیور سے لے کر چلانے والے تک ہر کوئی کشتی چلانے کے پیشے سے تعلق نہیں رکھتا تھا۔
اس واقعہ کے تعلق سے موربی برج حادثے کے 112 متاثرین کے خاندانوں کے لیے انصاف کے لیے لڑ رہے وکیل اتکرش دوے نے ہرنی کشتی حادثے کے متاثرین کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی ہے۔ درخواست میں کلکٹر اور میونسپل کمشنر کے خلاف غفلت برتنے پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ریاستی حکومت نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) جو کہ ایک سینئر پولیس افسر کی قیادت میں تشکیل دی گئی ہے، سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرائی جائے۔ متاثرہ خاندانوں کو 6 لاکھ روپے سے زائد معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
