شر پسند عناصر کے خلاف سخت کاررروائی کی جائے گی :دھامی
دہرادون/نینی تال، 9 فروری۔
جمعرات کو نینی تال ضلع کے ہلدوانی میں ہوئے بنبھول پورہ تشدد میں اب تک پانچ لوگوں کی موت ہو چکی ہے جبکہ تین کی حالت انتہائی نازک ہے۔ دھامی حکومت شرپسندوں سے نمٹنے کے لیے سخت کارروائی کر رہی ہے۔ ریاستی حکومت نے واضح کیا کہ بنبھول پورہ میں تشدد میں ملوث کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ شہر کے فساد زدہ علاقوں میں کرفیو بدستور جاری ہے اور انٹرنیٹ خدمات بھی معطل کر دی گئی ہیں۔
اتراکھنڈ کے پولیس ڈائریکٹر جنرل ابھینو کمار نے ہندوستھان سماچار کو بتایا کہ بنبھول پورہ تشدد میں اب تک پانچ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ تشدد میں زخمی ہونے والے تین افراد کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے دارالحکومت میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر اعلیٰ حکام کے ساتھ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ دریں اثنا، ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے پورے ون بھول پورہ علاقے کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پولیس اصل سازشی کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے احتیاط کے طور پر پورے شہر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ہے۔
وزیر اعلیٰ دھامی نے اپنی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں ہدایات دی ہیں کہ غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے دوران افسران اور ملازمین پر حملہ کرنے اور بدامنی پھیلانے والے شرپسند عناصر کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے اے ڈی جی (لا اینڈ آرڈر) اے پی انشومن کو ہدایت دی ہے کہ وہ امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے متاثرہ علاقے میں کیمپ لگائیں۔ انہوں نے کہا کہ آتش زنی اور پتھراو¿ میں ملوث ہر شرپسند کی نشاندہی کی جائے اور کارروائی کی جائے۔ اسپیشل پرنسپل سکریٹری/ اے ڈی جی امیت سنہا، سکریٹری آر۔ میناکشی سندرم، شیلیش بگولی، ونے شنکر پانڈے، ایڈیشنل سکریٹری جے سی کندپال نمایاں طور پر موجود تھے۔
نینی تال بیورو کے مطابق ضلع مجسٹریٹ وندنا سنگھ نے آج صبح صحافیوں کو بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں بلا اشتعال کارروائی کرتے ہوئے اہلکاروں کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔ فی الحال ہلدوانی میں حالات قابو میں ہیں۔ ڈی ایم وندنا نے کہا کہ شہر میں 1100 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقے میں اگلے احکامات تک کرفیو جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایک طرح سے امن و امان کو چیلنج کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ ڈھائی گھنٹے میں صورتحال پر قابو پالیا گیا۔ اس معاملے میں چار بدمعاش پولیس کی حراست میں ہیں۔
ڈی ایم نے بتایا کہ تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کے دوران کئی دکانوں کو بھی ہٹا دیا گیا۔ انتظامیہ کی کارروائی سے نہ کسی کا گھر تباہ ہوا اور نہ ہی کوئی بے گھر ہوا۔ ڈی ایم نے واضح کیا کہ وہاں کوئی مذہبی مقام نہیں ہے۔ نزول اراضی پر تجاوزات تھی۔ ہجوم انتظامی مشینری پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا اور ان پر یہ حملہ منصوبہ بند تھا۔
انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران آدھے گھنٹے کے اندر میونسپل کارپوریشن کی ٹیم پر پتھراو¿ کیا گیا۔ جب وہ پرسکون ہوئے تو ایک اور ہجوم نے ان پر پٹرول بموں سے حملہ کیا۔ اس کے بعد ہجوم نے پولیس اسٹیشن کو نشانہ بنایا اور گاڑیوں کو نذر آتش کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا۔ اپنے دفاع میں فائر کھولنے کے احکامات دیے گئے۔ جب بھیڑ کو یہاں سے ہٹایا گیا تو فسادی گاندھی نگر پہنچ گئے۔ وہاں تمام مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پی اے سی اور اضافی پولیس فورس طلب کی گئی۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی پرہلاد نارائن مینا نے کہا کہ 15-20 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔ ان سے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔ اگلے تین گھنٹوں میں کارروائی شروع ہو جائے گی۔
