عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون (پلیسز آف ورشپ ایکٹ) پر سپریم کورٹ کے عبوری فیصلے کا ملک کی مختلف مسلم تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیة علماء ہند، اور دیگر تنظیموں نے اس فیصلے کو فرقہ واریت اور بدامنی کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے عبادت گاہوں کے خلاف نئے مقدمات درج کرنے اور موجودہ مقدمات کی سماعت پر پابندی عائد کر دی ہے، جو ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔
BulletsIn
- سپریم کورٹ کا عبوری فیصلہ: پلیسز آف ورشپ ایکٹ پر سپریم کورٹ نے اگلے حکم تک کسی بھی موثر اور حتمی فیصلے پر پابندی لگا دی ہے۔
- آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا بیان: بورڈ نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون کے نفاذ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
- مقامی عدالتوں کے فیصلے: بورڈ کے ترجمان نے کہا کہ مقامی عدالتوں کی جانب سے عبادت گاہوں کے خلاف مقدمات قبول کرنا قانون کو بے معنی بنا دیتا ہے۔
- نئے مقدمات پر پابندی: سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اگلے حکم تک نئے مقدمات درج نہ کیے جائیں۔
- مولانا ارشد مدنی کا بیان: انہوں نے اس فیصلے کو فرقہ واریت اور بدامنی کے خلاف ایک اہم قدم قرار دیا۔
- عبادت گاہوں کے سروے پر پابندی: عدالت نے مساجد اور درگاہوں کے سروے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
- مولانا محمود اسعد مدنی کا ردعمل: انہوں نے اس فیصلے کو ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی جانب ایک مثبت اقدام قرار دیا۔
- فرقہ پرستی کی مخالفت: جمعیة علماء ہند نے فرقہ واریت کو ختم کرنے کی اپنی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔
- 1991 کا قانون: یہ قانون عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا اور اس پر عمل درآمد کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
- ملک کی یکجہتی اور بھائی چارہ: تمام تنظیموں نے ملک میں اتحاد اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
