نئی دہلی، 05 نومبر ۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کو مدھیہ پردیش کے سیونی میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پر قبائلی سماج کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پہلے قبائلی سماج کو اندھیرے میں رکھ کر لوٹا اور اب انہیں گمراہ کرکے لوٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔
نریندر مودی نے انتخابی ریاست مدھیہ پردیش میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کی اقتدار میں واپسی پر اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس بھی اس بات سے واضح طور پر واقف ہے اس لئے وہ صرف الیکشن لڑنے کا ڈرامہ کررہی ہے۔ اس کا مقصد صرف چندہ جمع کرنا ہے۔ وہیں کانگریس میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے نہیں بلکہ اپنے بیٹے کو بٹھانے کے لیے لڑائی چل رہی ہے۔ کانگریس کے دو بڑے لیڈر اس بات پر جھگڑ رہے ہیں کہ کس کا بیٹا کانگریس کا سربراہ بنے گا۔ اس دوران خاندان پر حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کامیابیوں کے نام پر یہاں صرف دادا دادی کی کہانیاں سنائی جارہی ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے غریب کلیان ان یوجنا میں 5 سال کی توسیع کو ایک کارنامہ قرار دیا اور کہا کہ کورونا کے دور میں ہی انہوں نے اپنا ذہن بنا لیا تھا کہ کسی غریب کا چولہا نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے 80 کروڑ لوگوں کو اگلے 5 سال تک مفت راشن دیا جائے گا۔ مرکزی حکومت اس پر لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کرے گی۔ کانگریس کی حکومت میں لاکھوں کروڑوں روپے کے گھپلے ہوئے تھے، لیکن ان کی حکومت میں لاکھوں کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں اور عوام کو مفت اناج دیا جا رہا ہے۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے یوریا کی قیمت میں اضافہ نہیں ہونے دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پڑوسی ممالک میں یوریا 3000 سے 4000 روپے میں دستیاب ہے جبکہ بھارت میں اس کی قیمت 300 روپے کے لگ بھگ ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس حکومت ایک ہی خاندان کی تعریفیں گاتی ہے۔ بی جے پی حکومت نے قبائلی عظیم آدمیوں کو جگہ دی ہے۔ قبائلی فخر کا دن 15 نومبر کو منایا جاتا ہے۔ بھوپال کے ریلوے اسٹیشن کا نام رانی کملاوتی کے نام پر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان کاریگروں کے لیے پی ایم وشوکرما اسکیم لائی ہے جنہیں کانگریس حکومت نے کبھی نہیں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں موبائل کی قیمتیں بہت کم ہیں اور ڈیٹا کی قیمتیں بھی دیگر ممالک کے مقابلے بہت کم ہیں۔ یہ سب ان کی حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے ہوا ہے۔
مودی نے کہا کہ کانگریس پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کانگریس ترقیاتی کام نہیں کرتی، لیکن غریبوں کی جیبیں ضرور صاف کرتی ہے۔ کانگریس کے لوگ قرض معافی کے جھوٹے اعلانات کرتے ہیں۔ پانچ سال پہلے بھی ان کے لیڈروں نے کہا تھا کہ وہ 10 دن میں قرض معاف کر دیں گے۔ 10 دن چھوڑ دیں، انہیں ڈیڑھ سال کا وقت ملا، لیکن وہ کسان کا قرض معاف نہیں کر سکے۔
