• English
  • Hindi
  • Punjabi
  • Marathi
  • German
  • Gujarati
  • Urdu
  • Telugu
  • Bengali
  • Kannada
  • Odia
  • Assamese
  • Nepali
  • Spanish
  • French
  • Japanese
  • Arabic
  • Home
  • Noida
  • Breaking
  • National
    • New India
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
Notification
  • Home
  • Noida
  • Breaking
  • National
    • New India
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
  • Home
  • Noida
  • Breaking
  • National
    • New India
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
  • Noida
  • Breaking
  • National
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
CliQ INDIA Sites > CliQ INDIA Urdu > National > یکساں سول کوڈکے نام پر امتیازکیوں؟اگردرج فہرست قبائل کو آئین کی روسے منظورشدہ بل سے مستثنیٰ رکھاجاسکتاہے تومسلمانوں کو کیوں نہیں؟
National

یکساں سول کوڈکے نام پر امتیازکیوں؟اگردرج فہرست قبائل کو آئین کی روسے منظورشدہ بل سے مستثنیٰ رکھاجاسکتاہے تومسلمانوں کو کیوں نہیں؟

CliQ INDIA
Last updated: February 7, 2024 10:53 am
CliQ INDIA
Share
7 Min Read
SHARE

کوئی ایسا قانون جو شریعت کے خلاف ہو ہمیں منظور نہیں: مولانا ارشدمدنی

نئی دہلی6/فروری(ہ س)۔

اتراکھنڈمیں یکساں سول کوڈکو نافذ کرنے کے ریاستی سرکارکے فیصلہ پر صدرجمعی?علمائ ہند مولانا ارشدمدنی نے اپنے شدیدردعمل کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی ایسا قانون منظور نہیں جو شریعت کے خلاف ہو، کیونکہ مسلمان ہر چیزسے سمجھوتا کر سکتا ہے ا پنی شریعت اوردھرم سے ہرگز ہرگز کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا،انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈمیں آج یکساں سول کوڈکاجوبل منظورہواہے اس میں درج فہرست قبائل کو ہندوستان کے آئین کی دفعہ 366کے باب 25کی ذیلی دفعہ 342کے تحت نئے قانون سے مستثنیٰ کردیاگیاہے اوریہ دلیل دی گئی ہے کہ آئین کی دفعہ21کے تحت ان کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ اگر آئین کی ایک دفعہ کے تحت درج فہرست قبائل کو اس قانون سے الگ رکھا جاسکتاہے توآئین کی دفعہ 25،26کے تحت ہمیں مذہبی آزادی کیوں نہیں دی جاسکتی ہے، جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، اس طرح دیکھاجائے تویکساں سول کوڈبنیادی حقوق کی نفی کرتاہے، اگر یہ یکساں سول کوڈہے توپھر شہریوں کے درمیان یہ امتیاز کیوں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری لیگل ٹیم اس بل کے قانونی پہلوو¿ں کا جائزہ لے گی اس کے بعد قانونی چارہ جوئی کے بارے میں فیصلہ لیاجائے گا۔ سچ تویہ ہے کہ کسی بھی مذہب کاماننے والااپنے مذہبی امورمیں کسی طرح کی بے جامداخلت کو برداشت نہیں کرسکتا، انہوں نے کہا کہ ہندوستان جیسے تکیثری ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے اپنے اپنے اعتقادات اورمذہبی ریت اوررواج پر مکمل آزادی کے ساتھ عمل پیرا ں ہیں وہاں آج یکساں سول کوڈکا نفاذآئین میں شہریوں کودیئے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ہے، سوال مسلمانوں کے پرسنل لائ کا نہیں بلکہ ملک کے سیکولرآئین کو اپنی حالت میں باقی رکھنے کاہے، کیونکہ ہندوستان ایک سیکولرملک ہے اوردستورمیں سیکولرازم کے معنی یہ ہیں کہ ملک کااپنا کوئی مذہب نہیں ہے، اس لئے یکساں سول کوڈمسلمانوں کے لئے ناقابل قبول ہے، اورملک کی یکجہتی اورسالمیت کے لئے بھی نقصاندہ ہے، یکساں سول کوڈکے نفاذکے لئے، دفعہ 44 کو ثبوت کے طور پر پیش کیاجاتا ہے اوریہ پروپیگنڈہ کیا جاتاہے کہ یکساں سول کوڈکی بات توآئین میں کہی گئی ہے جبکہ دفعہ 44رہنمااصول میں نہیں ہے، بلکہ ایک مشورہ ہے، لیکن آئین کی ہی دفعہ 25، 26 اور 29 کا کوئی ذکر نہیں ہوتا جن میں شہریوں کے بنیادی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، اس طرح دیکھا جائے تو یکساں سول کوڈ بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہے، اس کے باوجود ہماری حکومت کہتی ہے کہ ایک ملک ایک قانون ہوگا اور یہ کہ ایک گھر میں دو قانون نہیں ہو سکتا، یہ عجیب وغریب بات ہے، ہمارے یہاں کی IPC،CRPC کی دفعات بھی پورے ملک میں یکساں نہیں ہیں، ریاستوں میں اس کی نوعیت تبدیل ہو جاتی ہے، ملک میں گو¿کشی کا قانون بھی ایک نہیں ہے جو قانون ہے وہ پانچ ریاستوں میں نافذ نہیں ہے ملک میں ریزرویشن کے تعلق سے سپریم کورٹ نے اس کی حد 50 فیصد مقرر کی ہے لیکن مختلف صوبوں میں 50 فیصد سے زیادہ ریز رویشن دیا گیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ جب پورے ملک میں سول لاء ایک نہیں ہے تو پھر ملک بھر میں ایک فیملی لاء لاگو کرنے پر زور کیوں؟ ہمارا ملک کثیر تہذیبی اور کثیر مذہبی ملک ہے، یہی اس کی خصوصیت بھی ہے، اس لئے یہاں ایک قانون نہیں چل سکتا، جو لوگ دفعہ 44 کی آنکھ بند کر کے وکالت کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اسی دفعہ کے تحت یہ بات بھی کہی گئی اوریہ بھی مشورہ دیا ہے کہ پورے ملک میں شراب پر پابندی لگائی جائے، امیر غریب کے درمیان کی خلیج کو ختم کیا جائے،سرکار یہ کام کیوں نہیں کرتی؟ کیا یہ ضروری نہیں؟ سوال یہ ہے کہ جن باتوں پر کسی کو اختلاف نہیں اور جو سب کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے سرکار اسے کرنے سے گریزکیوں کرتی ہے؟ دوسری طرف جو چیز یں اختلافی ہیں اسے ایشو بنا کر آئین کا لیبل لگا دیا جاتا ہے، مولانا مدنی نے کہا کہ ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہمارے جو فیملی لاءہیں وہ انسانوں کا بنایا قانون نہیں ہے، وہ قرآن مجید وحدیث سے ماخوذ ہیں، اس پر فقہی مباحث تو ہو سکتے ہیں، لیکن بنیادی باتوں پر ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ کہنا بالکل درست معلوم ہوتاہے کہ یکساں سول کوڈکا نفاذ شہریوں کی مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ فرقہ پرست طاقتیں نت نئے جذباتی اورمذہبی مسائل کھڑے کرکے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مسلسل خوف اورانتشارمیں مبتلارکھنا چاہتی ہے لیکن مسلمانوں کو کسی بھی طرح کے خوف اورانتشارمیں مبتلانہیں ہوناچاہئے، ملک میں جب تک انصاف پسند لوگ باقی ہیں ان کو ساتھ لیکر جمعی?علمائ ہند ان طاقتوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گی، جو ملک کے اتحاداورسالمیت کے لئے نہ صرف ایک بڑاخطرہ ہے بلکہ سماج کو تعصب کی بنیادپر تقسیم کرنے کے درپے ہیں، انہوں نے کہا کہ اس ملک کے خمیرمیں ہزاروں برس سے نفرت نہیں محبت شامل ہے کچھ عرصہ کے لئے نفرت کو کامیاب ضرورکہا جاسکتاہے لیکن ہمیں یقین ہے کہ آخری اورحتمی فتح محبت کی ہونی ہے۔

 

You Might Also Like

دہلی حکومت کے لیبر منسٹر راج کمار آنند سے منسلک احاطے پر ای ڈی کی چھاپہ ماری
راہول گاندھی شہریت کیس: الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکز سے فائلیں طلب کیں، ایف آئی آر پر غور 19 مارچ کو راہول گاندھی شہریت کیس میں الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکز سے فائلیں طلب کر لی ہیں، اور ایف آئی آر پر فیصلہ 19 مارچ کو زیر غور آئے گا۔
مرکزی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی کانفرنس 11-10 جولائی کو کیوڑیا میں منعقد ہوگی۔
بھارت اور جاپان نے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے اتراکھنڈ میں مشترکہ فوجی مشق دھرم گارڈین 2026 کا آغاز کیا۔
وزیر اعظم مودی کے گجرات اور راجستھان کے دورے کا مرکز سرسا، بے مثال سیکورٹی انتظامات

Sign Up For Daily Newsletter

Be keep up! Get the latest breaking news delivered straight to your inbox.
[mc4wp_form]
By signing up, you agree to our Terms of Use and acknowledge the data practices in our Privacy Policy. You may unsubscribe at any time.
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Telegram Copy Link Print
Share
What do you think?
Love0
Sad0
Happy0
Angry0
Wink0
Previous Article ایئرپورٹ پولیس نے جعلی ویزا بنانے والے ملزم کو گرفتار کیا
Next Article گیانواپی کے بند تہہ خانوں کے اے ایس آئی سروے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر 15 فروری کو سماعت
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Stay Connected

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
- Advertisement -
Ad imageAd image

Latest News

بھارتی اسٹاک مارکیٹس روپے کے گرنے اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان سرخ رنگ میں کھل گئیں
Business
May 23, 2026
مرکز نے مہاراشٹر کے اقدام کے بعد کانگریس کے زیر انتظام ریاستوں کو ہوا بازی کے ایندھن پر وی اے ٹی کم کرنے پر زور دیا
National
May 23, 2026
سپریم کورٹ نے اقتصادی طور پر ترقی یافتہ او بی سی خاندانوں کے لئے ریزرویشن کے فوائد پر سوال اٹھائے
National
May 23, 2026
لکھنؤ سپر جائنٹس اور پنجاب کنگز نے آئی پی ایل 2026 کے مقابلے کی تیاری شروع کردی
Sports
May 23, 2026

//

We are rapidly growing digital news startup that is dedicated to providing reliable, unbiased, and real-time news to our audience.

We are rapidly growing digital news startup that is dedicated to providing reliable, unbiased, and real-time news to our audience.

Sign Up for Our Newsletter

Sign Up for Our Newsletter

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

Follow US

Follow US

© 2026 cliQ India. All Rights Reserved.

CliQ INDIA Urdu
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?