وزیر اعظم نریندر مودی کی ڈگری کے تنازعے پر دہلی ہائی کورٹ میں سماعت جاری ہے، جہاں دہلی یونیورسٹی نے عدالت کو ڈگری دکھانے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن کسی عام فرد کو یہ معلومات دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ معاملہ حق اطلاعات (RTI) کے دائرہ کار، پرائیویسی اور عوامی مفاد کے درمیان توازن پر مرکوز ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ڈگری سے متعلق معلومات عوامی دستاویز ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی اسے نجی معلومات قرار دے رہی ہے۔ عدالت نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
BulletsIn
- دہلی یونیورسٹی نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ وہ عدالت کو نریندر مودی کی ڈگری دکھا سکتی ہے لیکن کسی عام فرد کو نہیں۔
- دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ یونیورسٹی میں چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
- درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی طالب علم کی ڈگری دینا ایک پبلک ایکٹ ہے، نہ کہ نجی معاملہ۔
- وکیل شادان فراست نے دلیل دی کہ دہلی یونیورسٹی حق اطلاعات قانون کے تحت ایک عوامی ادارہ ہے اور معلومات فراہم کرنے کی پابند ہے۔
- دہلی یونیورسٹی کا مؤقف ہے کہ آج کل آر ٹی آئی دائر کرنا ایک پیشہ بن گیا ہے اور محض تجسس کی بنیاد پر معلومات طلب کرنا جائز نہیں۔
- سالیسٹر جنرل نے کہا کہ کسی کی تعلیمی ڈگری ذاتی معلومات کے زمرے میں آتی ہے اور اسے عام نہیں کیا جا سکتا۔
- عام آدمی پارٹی کے نیرج شرما نے آر ٹی آئی کے تحت نریندر مودی کی ڈگری کی معلومات مانگی تھی، جسے یونیورسٹی نے دینے سے انکار کر دیا۔
- سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے یونیورسٹی کی انفارمیشن آفیسر میناکشی سہائے پر 25,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا اور معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا۔
- دہلی یونیورسٹی نے اس فیصلے کے خلاف دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
- عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد اس معاملے پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
