فوج کے اسٹرٹیجک فورسز کمانڈ یونٹ کا’’جاسوس‘‘ میجر برخاست
۔ ایک کرنل اور بریگیڈیئر سمیت چار فوجی افسران کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے
۔ برخاست میجر کے ذریعے بھارت کے ایٹمی پروگرام کے لیک ہونے کا تھا خطرہ
نئی دہلی، یکم نومبر ۔ ہندوستانی مسلح افواج کی سپریم کمانڈر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے والے ایک فوجی میجر کو برخاست کر دیا ہے۔ اسٹریٹیجک فورسز کمانڈ (ایس ایف سی) یونٹ میں تعینات میجر کے خلاف مارچ 2022 سے تحقیقات جاری تھیں۔ اسی جاسوسی کیس میں ایک کرنل اور بریگیڈیئر سمیت چار اعلیٰ فوجی افسران کو پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔
برخاست میجر پر الزام ہے کہ اس نے شمالی ہندوستان میں ایس ایف سی یونٹ میں اپنی پوسٹنگ کے دوران اپنے موبائل پر ’’پٹیالہ پیگ‘‘ کے نام سے ایک واٹس ایپ گروپ بنایا اور اس کے ذریعے اس نے ایک پاکستانی ایجنٹ کو اہم ڈیٹا لیک کیا۔ ایک ایل ٹی کرنل، بریگیڈیئر اور دو دیگر اعلیٰ فوجی افسران بھی اسی واٹس ایپ گروپ کا حصہ تھے۔ اسی لیے انہیں 2022 میں ہی معطل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے ایس ایف سی یونٹ میں تعینات بھارتی فوج کے ایک میجر کے خلاف پاکستانی ایجنٹ سے رابطے کے الزام میں تحقیقات کی جا رہی تھیں۔
ہندوستانی فوج کی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ ہی ملک کے جوہری ہتھیاروں کا انتظام کرتی ہے، اس لیے 2022 سے تحقیقات کی زد میں آنے والے میجر کے ذریعے ہندوستان کے جوہری پروگرام کے لیک ہونے کا بھی خطرہ تھا۔ میجر پر الزام تھا کہ اس نے فوجی قوانین کے برعکس اپنے الیکٹرانک ڈیوائس میں خفیہ دستاویزات رکھی تھیں۔ قومی سلامتی کے ساتھ معاہدے سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے حکام کا ایک بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ میجر نے خفیہ دستاویز کی کاپی اپنے الیکٹرانک آلات پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا چیٹ کے ذریعے ایک پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹر سے بھی رابطے میں تھا۔
صدر جمہوریہ نے آرمی ایکٹ 1950 کے سیکشن 18 کے ذریعے دیئے گئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 310 اور اس سلسلے میں قابل دیگر حاصل تمام اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے میجر کی خدمات کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا۔
