جے پور ، 28 اکتوبر (ہ س)۔
ادے پور کے کنہیا لال قتل کیس میں این آئی اے کی طرف سے ملزمین کے خلاف این آئی اے کے مقدمات کی خصوصی عدالت میں چارج کی بحث مکمل ہو گئی ہے۔ ملزمان کی جانب سے پیر سے دلائل شروع ہوں گے۔این آئی اے کی جانب سے چارج ڈیبیٹ میں کہا گیا کہ ملزمین نے واٹس ایپ پر ایک گروپ بنا کر مجرمانہ سازش رچی اور مذہب کے نام پر کنہیا لال ٹیلر کا گھناو¿نا قتل کیا۔ ملزمان کے خلاف کی گئی تفتیش سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ تمام افراد مجرمانہ سازش میں ملوث تھے۔ ان کے خلاف قتل ، دیگر مذاہب اور ذاتوں کی توہین اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بھی ثابت ہوئے ہیں۔
لہٰذا ملزمان کے خلاف قتل سمیت دیگر جرائم میں فرد جرم عائد کی جائے۔ اس معاملے میں، این آئی اے نے دسمبر 2022 میں غوث محمد اور محمد ریاض عطاری سمیت تمام ملزمان کے خلاف آئی پی سی اور یو اے پی اے ایکٹ کی دفعہ 16، 18 اور 20 کے تحت دہشت گردانہ سرگرمیوں کے الزام میں چالان پیش کیا تھا۔ اس میں، این آئی اے نے ابتدائی طور پر تمام نو ملزمین بشمول مرکزی ملزم غوث محمد اور محمد ریاض کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں بشمول قتل، توہین اور دیگر مذاہب اور ذاتوں کو نقصان پہنچانے کے الزامات پائے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ ملزم نے 28 جون 2022 کو ادے پور میں کنہیا لال ٹیلر کے گھناو¿نے قتل کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کیا تھا۔ بعد میں کیس کی تحقیقات این آئی اے کو سونپ دی گئی۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
