شملہ، 21 اکتوبر (ہ س)۔ ہماچل میں کرپٹو کرنسی میں بڑے فراڈ کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کے بعد اس معاملے میں مسلسل نئے انکشافات سامنے آرہے ہیں۔ جمعہ کی رات ہماچل پردیش پولیس نے اس کیس سے متعلق ایک کروڑ روپے کے اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے۔ جلد ہی پولیس اس معاملے میں 5 کروڑ روپے کی ایک اور جائیداد کو منجمد کرنے جا رہی ہے۔
جعلسازوں نے کرپٹو کرنسی کے فراڈ میں تقریباً ایک لاکھ افراد کو دھوکہ دیا ہے۔ اس فراڈ میں تقریباً ڈھائی لاکھ آئی ڈیز ملی ہیں، جن میں ایک ہی شخص کے نام پر کئی آئی ڈیز شامل ہیں۔ ایک ہزار پولیس اہلکار بھی دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں۔ دھوکہ بازوں نے سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے دو کریپٹو کرنسی کورویو کوائن اورڈی جی ٹی کوائن شروع کیں۔ ان ڈیجیٹل کرنسیوں کی قیمتوں میں ہیرا پھیری کے ساتھ فرضی ویب سائٹس بھی بنائیں۔
ڈی جی پی سنجے کنڈو نے ہفتہ کو صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت میں یہ جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس انتظامیہ نے اپنی سطح پر اس کیس کے لیے ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ ایس آئی ٹی ڈی آئی جی ناردرن رینج ابھیشیک دلر کی قیادت میں منصوبہ بند طریقے سے مسلسل تحقیقات کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک دو اہم ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے اور دونوں ہی حراست میں ہیں۔
سنجے کنڈو نے بتایا کہ اس معاملے میں ریاست اور ریاست سے باہر ایک لاکھ لوگوں نے لین دین کیا ہے، جن میں سے 2.5 لاکھ آئی ڈی کے ذریعے لین دین ہوا ہے۔ اس پورے معاملے میں کل 2,300 کروڑ روپے کے لین دین کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں سے 400 کروڑ روپے کی واجبات باقی ہیں۔ کل رات ہماچل پولیس نے اس کیس سے متعلق ایک کروڑ روپے کے اثاثوں کو منجمد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس انتظامیہ جلد ہی 5 کروڑ روپے کے اثاثے منجمد کرنے جا رہی ہے۔
حال ہی میں پولیس کے گودام سے 33 کلو گرام چرس غائب ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس حوالے سے ہائی کورٹ کی جانب سے تحقیقات کے احکامات جاری کیے گئے۔ اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈی جی پی سنجے کنڈو نے کہا کہ عدالتی حکم کے بعد پولیس انتظامیہ نے اس معاملے میں جانچ شروع کردی ہے اور جلد ہی معاملے کی تہہ تک پہنچ جائے گی۔
ہندوستھان سماچار
