رائے پور، یکم نومبر (ہ س)۔ چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات-2023 کے دوسرے مرحلے کے 70 اسمبلی حلقوں میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے بعد کل 1066 امیدواروں کے پرچہ جات درست پائے گئے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ دوسرے مرحلے میں نامزدگی کے آخری دن 30 اکتوبر تک کل 1219 امیدواروں نے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا۔
اسمبلی انتخابات 2023 کے تحت دوسرے مرحلے میں رائے پور، بلاس پور، درگ اور سرگوجا ڈویژن کے کل 70 اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ دوسرے مرحلے کے لیے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 31 اکتوبر کو ہوئی۔ امیدوار 2 نومبر تک اپنے نام واپس لے سکتے ہیں۔
دوسرے مرحلے کے لیے 17 نومبر کو کل 1 کروڑ 63 لاکھ 14 ہزار 479 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں گے، جن میں 81 لاکھ 41 ہزار 624 مرد ووٹرز، 81 لاکھ 72 ہزار 171 خواتین ووٹرز اور 684 ووٹرز تیسری جنس کے شامل ہیں۔
اسمبلی الیکشن 2023 کے تحت دوسرے مرحلے میں رائے پور نگر جنوبی میں 36، رائے پور نگر ویسٹ میں 31، درگ شہر میں 27، بلہا، رائے پور دیہی میں 25-25، بیلترہ میں 24، رائے گڑھ، بھاٹاپارہ میں 23-23 کوربا، کسڈول میں 22-22، بلاس پور ،جانجگیر-چمپا،میں 21-21، بھٹگاو¿ں، لورمی، مہاسمندمیں 20-20،دھرسیواں، پاٹن، ویشالی نگرمیں 19-19 ، بیمترا، کوٹا میں 18، سیتا پور، سکتی، جے جے پور، رائے پور نگر نارتھ، نواگڑھ میں 17-17، اکلتارا میں، کھلاری، کرود، سنجاری-بالود میں 16-16، پرتاپ پور، امبیکاپور، کٹگھورا، منگیلی، تخت پور، ارنگ، دھمتری، گندردیہی، درگ دیہات ، ساجامیں ، 15-15، پریم نگر، سامری میں 14-14، بھیلائی نگر، مستوری، بلودابازار، ابھن پور میں 13-13، لونڈرا، راجیم میں12-12، مانیندر گڑھ، جش پور، کنکوری، پام گڑھ، اہیوارہ، رامانوج گنج میں 11-11، رام پور، مرواہی ، بلائی گڑھ، سارنگڑھ، بسنا میں 10-10، لیلونگا ، پالی-تتاناکھار، چندر پور، بھرت پور، سونہتمیں 9-9، بیکنٹھ پور، پتھلگاوں، کھرسیا، سرائے پالی میں8-8،، دھرمجے گڑھ ،بندرنوا گڑھ، سیہاوا میں 7-7، ڈونڈیلوہرہ میں پانچ کاغذات نامزدگی درست قرار پائے ہیں۔اسمبلی انتخابات کے لیے امیدواروں کی جانب سے جمع کرائے گئے کاغذات کی جانچ پڑتال کا عمل اب مکمل کر لیا گیا ہے۔ درگ ضلع کی بات کریں تو یہاں اسمبلی انتخابات کے دوران کل 115 امیدواروں نے اپنے پرچہ نامزدگی داخل کئے جس میں کل 12 کاغذات نامزدگی مسترد کیے گئے۔ پاٹن اسمبلی حلقہ سے اجے چندراکر جو عآم آدمی پارٹی سے ہیں، ان کے پرچہ نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دو درخواستیں ہونے کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا گیا ہے ۔
پاٹن میں کل 19 پرچہ نامزدگی داخل کیے گئے۔ جبکہ بھیلائی نگر میں کل 14 پرچہ نامزدگی داخل کئے گئے جن میں ایک ہری چند کی نامزدگی مسترد کردی گئی۔ درگ شہر سے کل 29 نامزدگیاں داخل کی گئی تھیں، جن میں سریندر کمار ورما کی نامزدگی کو دستخط اور حلف کی کمی کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا تھا اور جسمیت سنگھ کی پرچہ نامزدگی تجویز کنندہ نہیں ہونے کی وجہ سے مسترد کر دی گئی ہے ۔ درگ دیہات سے کل 16 پرچہ نامزدگی داخل کیے گئے تھے۔ جس میں لکشمی ورما جن کا تعلق عام آدمی پارٹی سے ہے،ان کی نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا۔
ویشالی نگر سے کل 21 کاغذات نامزدگی داخل کیے گئے، جن میں کریم علی خان انڈین نیشنل کانگریس اور گنیش کمار ہمانشو بھارتیہ جنتا پارٹی کے کل 2 نامزدگیاں مسترد کر دی گئیں۔ اہیوارہ سے کل 16 پرچہ نامزدگی داخل کیے گئے تھے، جن میں سے 5 پرچہ نامزدگی مسترد کر دیے گئے تھے۔ جس میں رشی ٹنڈن جنتا کانگریس، اونی کمار مہیلانگ انڈین نیشنل کانگریس، راجن کوٹھیل کانگریس، سنتوش کمار بنجارے بی ایس پی اور امر داس نارنجے شیوسینا پارٹی کے نام شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
