۔ دس برسوں میں دفاعی برآمدات 1,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 23,500 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں
نئی دہلی، 27 اکتوبر (ہ س)۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گھریلو دفاعی صنعت میں نجی شعبے کی شراکت کو دوگنا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گھریلو دفاعی مینوفیکچرنگ میں نجی شعبے کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے جب کہ اگلے تین برسوں میں اس شراکت کو کم از کم 50 فیصد تک بڑھانے کا ہدف ہونا چاہیے۔ نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شراکت کا ہی نتیجہ ہے کہ ہندوستان کی دفاعی برآمدات دس برسوں میں 1,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 23,500 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
یہاں سوسائٹی آف انڈین ڈیفنس مینوفیکچررز (ایس آئی ڈی ایم) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ حکومت گھریلو فروخت کنندگان کو فروغ دینے کے لیے بھی کوششیں کر رہی ہے۔ہم نے طے کیا ہے کہ ہمارے پلیٹ فارم، سسٹم اور سب سسٹم کو بتدریج گھریلو بنایا جائے ۔ ان اشیاءکے لیے بھی جو ہم تیار نہیں کر سکے، ہم نے ان کے لئے بھی کم از کم 50فیصد دیسی مواد تجویز کیا ہے۔ ہم بہت سے شعبوں میں اپنے دیسی مواد کو بڑھانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، لیکن ابھی کافی کام باقی ہے۔“
وزیر دفاع نے کہا کہ آج جب ہم بیرون ملک سے بڑے سازوسامان خریدتے ہیں تو اس کی پوری زندگی کی سائیکل کے دوران دیکھ بھال، مرمت، اوور ہال اور اسپیئر پارٹس کے انتظام کے لیے بھی ایک بڑے مالیات کی ضرورت درپیش ہوتی ہے۔ اس سے نہ صرف ہمارے وسائل پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ دوسرے ممالک پر ہمارا انحصار بھی برقرار رہتا ہے۔ اس لیے ہمیں صرف مکمل پلیٹ فارم کی جانب نہیں، بلکہ انفرادی سب سسٹمز اور پرزوں کی مقامی تیاری پر بھی توجہ دینی ہے۔ ہمارا مقصد صرف ہندوستان میں اسمبل کرنے پر نہیں ہونا چاہئے، بلکہ صحیح معنوں میں ہمیں اپنے ملک کے اندر ٹیکنالوجی پر مبنی مینوفیکچرنگ کرنی ہوگی۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ہمیں کسی بھی جنگ جیسی صورتحال کے لیے نہ صرف تیار رہنا ہے، بلکہ ہماری تیاری اپنی خود کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ میرے لئے یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری دفاعی صنعت اس سمت میں مضبوطی سے قدم آگے بڑھا چکی ہے۔ آپریشن سندور کی کامیابی کا سہرا ہمارے فوجیوں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اس مشن کو کامیاب بنانے کے لیے پس پردہ کام کیا۔ آکاش میزائل سسٹم، برہموس، آکاش تیرایئر ڈیفنس کنٹرول سسٹم اور مختلف قسم کے دیگر مقامی آلات نے آپریشن سندور کے دوران اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ ہمارے دیسی ہتھیاروں نے نہ صرف علاقائی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ہندوستان کی ساکھ کو بڑھایا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ ہمارے لیے دفاعی شعبہ محض معاشی ترقی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ قومی خودمختاری کی بنیاد ہے۔ جب قومی خودمختاری کی بات آتی ہے تو یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ ہر شہری، ہر ادارے اور ہر صنعت کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آپریشن سندور کے بعد آج یہ اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر پر بھروسہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہم سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ جیسے اہم اور نازک شعبے میں بھی تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ خود انحصاری کا نظریہ ہماری حکومت کے لیے صرف ایک نعرہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی صدیوں پرانی روایت کی تجدید ہے۔ ہم نے مینوفیکچرنگ اور اعلی ٹیکنالوجی میں دیسی بنانے کو ترجیح دے کر اس روایت کی تجدید کرنے کی کوشش کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد
