نئی دہلی، 23 جولائی (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی بدھ کو برطانیہ اور مالدیپ کے چار روزہ دورے پر روانہ ہو گئے۔ اس دوران وزیراعظم دونوں ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ بین الاقوامی اہمیت کے امور پر بات چیت کریں گے۔ دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم 23 اور 24 جولائی کو برطانیہ میں ہوں گے جہاں ان کی برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے دو طرفہ بات چیت اور کئی معاہدوں پر دستخط کا امکان ہے۔ اس دورے کی اصل توجہ بھارت-برطانیہ آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کے لیے سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم نے غیر ملکی دورے پر روانہ ہونے سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، اختراع، دفاع، تعلیم، صحت، تحقیق اور عوام سے عوام کے رابطے جیسے شعبوں میں تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ دورہ ان تعلقات کو مزید گہرا کرے گا۔ برطانیہ میں قیام کے دوران وزیر اعظم مودی کو بادشاہ چارلس سوم سے ملاقات کی بھی تجویز ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ برطانوی وزیر اعظم سر کیر سٹارمر کے ساتھ ان کی ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید گہرا کرے گی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک میں خوشحالی، ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے اہم ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ وزیر اعظم کنگ چارلس سوم سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے بعد وزیر اعظم 25-26 جولائی کو مالدیپ کا دورہ کریں گے جہاں وہ صدر ڈاکٹر محمد معزو کی دعوت پر مالدیپ کی آزادی کی 60ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ اس سال ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ مودی نے کہا کہ وہ ہندوستان اور مالدیپ کے درمیان جامع اقتصادی اور سمندری سیکورٹی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے لیے صدر معزو اور مالدیپ کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ ہمارا مشترکہ وژن، خاص طور پر بحری سلامتی اور اقتصادی تعاون کے شعبے میں، بحر ہند کے خطے میں امن اور خوشحالی کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا۔ وزیر اعظم مودی نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ دورہ پڑوسی پہلے کی پالیسی کو مضبوط کرے گا اور ہندوستان کے شہریوں کو ٹھوس فوائد پہنچائے گا۔
—————
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی
