• English
  • Hindi
  • Punjabi
  • Marathi
  • German
  • Gujarati
  • Urdu
  • Telugu
  • Bengali
  • Kannada
  • Odia
  • Assamese
  • Nepali
  • Spanish
  • French
  • Japanese
  • Arabic
  • Home
  • Noida
  • Breaking
  • National
    • New India
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
Notification
  • Home
  • Noida
  • Breaking
  • National
    • New India
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
  • Home
  • Noida
  • Breaking
  • National
    • New India
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
  • Noida
  • Breaking
  • National
  • International
  • Entertainment
  • Crime
  • Business
  • Sports
CliQ INDIA Sites > CliQ INDIA Urdu > National > نیپال سمیت شمالی بہار میں موسلا دھار بارش سے تمام سرحدی اضلاع سیلاب زدہ، سینکڑوں گاؤں میں پانی داخل ہوا
National

نیپال سمیت شمالی بہار میں موسلا دھار بارش سے تمام سرحدی اضلاع سیلاب زدہ، سینکڑوں گاؤں میں پانی داخل ہوا

CliQ INDIA
Last updated: October 7, 2025 6:32 am
CliQ INDIA
Share
7 Min Read
SHARE

نیپال سمیت شمالی بہار میں موسلا دھار بارش سے تمام سرحدی اضلاع سیلاب زدہ، سینکڑوں گاؤں میں پانی داخل ہوا پٹنہ، 6 اکتوبر (ہ س)۔ پڑوسی ملک نیپال سمیت شمالی بہار کے بیشتر اضلاع میں موسلادھار بارش نے ایک بار پھر ریاست کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ بہار میں باگمتی، کوسی، کملا، بلان اور کئی دیگر ندیوں میں طغیانی ہیں، جس سے موتیہاری، سپول، ارریہ، مدھے پورہ اور سہرسہ سمیت کئی اضلاع میں خوفناک صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔اکتوبر کے مہینے میں ایک بار پھر آسمان سے آفت برس رہی ہے۔ مسلسل بارش نے لوگوں کی زندگی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ سب سے زیادہ خراب صورتحال بہار کی ہے جہاں کے کئی اضلاع میں حالات خراب ہو چکے ہیں۔ کوسی اور کملا جیسی ندیاں طغیانی پر ہیں۔ گاؤں کے گاؤں پانی میں ڈوب گئے ہیں او رلوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مشرقی چمپارن (موتیہاری)، سپول، ارریہ، سیتامڑھی، مدھوبنی، مدھے پورہ، سہرسہ، کشن گنج اور کٹیہار سمیت نیپال کی سرحد سے متصل کئی اضلاع میں سیلاب کے پانی نے معمولات زندگی درہم برہم کردیئے ہیں ۔ سیلاب کا پانی سینکڑوں گاؤں میں داخل ہو گیا ہے جس سے دھان کی فصلوں کو کافی نقصان پہنچا ہے۔محکمہ آبی وسائل کے اعداد و شمار کے مطابق باگمتی، کوسی، کملا، بلان اور گنڈک سمیت ادھوارہ گروپ کی ندیوں میں طغیانی ہے۔ سیلاب متاثرہ خاندان اونچی جگہوں پر نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ سپول ضلع کے ویرپور میں کوسی بیراج کے تمام 56 پھاٹک اتوارکے روز کھولے گئے۔ اتوار کے روز کوسی بیراج سے 5.33 لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی چھوڑا گیا جو اس سال کی سب سے زیادہ ہے۔ پیرکے روز بیراج سے 377670 کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ آج کوسی بیراج پر پانی کا اخراج تیزی سے کم ہو رہا ہے، لیکن بیراج سے خارج ہونے والاپانی اب پشتے کے اندر تباہی مچا رہا ہے۔سپول صدر بلاک، کشن پور، مرونہ اور سرائے گڑھ بلاک کے ڈھائی درجن سے زیادہ گاؤں میں سیلاب کا پانی تیزی سے داخل ہورہا ہے۔ اس سے ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور ان میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے کہ سیلاب سے کیسے نمٹا جائے۔ لوگوں نے پشتے کے اندر سے بھاگ کر مشرقی کوسی پشتے پر پناہ لی ہے، پلاسٹک کی چادروں کے نیچے خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں۔ مائیک کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو محتاط رہنے اور اونچی جگہ پر جانے کی تاکید کی جا رہی ہے۔ارریہ ضلع میں فاربس گنج کے پپرا پنچایت میں پرمان ندی کا ڈیم پانی کے دباؤ کے درمیان ٹوٹ گیا، جس سے تین وارڈوں کے سینکڑوں گھر وں میں پانی داخل ہوگیا ۔ متاثرین میں خوف و ہراس کی کیفیت ہے۔ لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور انتظامیہ سے راحت اور مدد کی التجا کر رہے ہیں۔ گاؤں والوں کے مطابق ڈیم میں 10 سے 15 میٹر تک شگاف پڑ گیا ہے۔ ڈیم کے ٹوٹنے کا ذمہ دار دیکھ بھال کی کمی کو قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے بچوں، سامان اور یہاں تک کہ مویشیوں کو بھی اونچی جگہ پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔ فاربس گنج زونل افسر پنکج کمار نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔مشرقی چمپارن میں صورتحال نازک ہو گئی ہے کیونکہ نیپال کی جان ندی کا سیلابی پانی ڈھاکہ بلاک کے کئی گاؤں میں داخل ہو گیا ہے۔ سڑکوں پر پانی بہہ رہا ہے۔ سیلاب کا پانی ڈھاکہ بلاک کے کئی گاؤں تک پھیل گیا ہے، جن میں ہیرا پور، مہگوا، گرہانوا، بھوانی پور، دوستیاں اور تلہارا کالاشامل ہیں۔ گڑہانوا سے ہیرا پور، گرہانوا سے بھوانی پور اور کسماوا سے دوستیاں تک سڑکوں پر پانی بھر جانے کی وجہ سے ٹریفک میں خلل پڑا ہے۔ سینکڑوں ایکڑ پر کھڑی دھان کی فصل زیرآب آنے سے کسان پریشان ہیں۔ ڈھاکہ بلاک کے کئی دیگر علاقوں میں آج پانی داخل ہونے کی توقع ہے۔ انتظامی اہلکار رات تک صورتحال کا جائزہ لیتے رہے۔ لالباکیاندی کے پانی کی سطح بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔سکھرنا ندی سگولی بلاک کے کئی علاقوں میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ سیلاب کا پانی سگولی تھانہ علاقہ کے دیہی علاقوں میں داخل ہوگیا ہے۔ بیلوتیارگھوناتھ پور مین روڈ پر دھونیاواچھٹی اور مہوانی کے قریب زیر تعمیر پل موڑ پر تقریباً تین فٹ پانی بہنا شروع ہو گیا ہے۔ نگر پنچایت کے سگولی-وشن پوروا-پیپرپتی سڑک پر سگولی بازار امیر خان ٹولہ، نوادیہ روڈ اور بیلیتھ روڈ پر بھی تقریباً دو فٹ پانی بہہ رہا ہے، جس کی وجہ سے آنے جانے میں مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہا ہے۔ سگولی نگر پنچایت کے وارڈ نمبر ایک، دو، تین، گیارہ، بارہ، سات، چودہ، پندرہ اور اٹھارہ میں بھی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے۔مدھوبنی ضلع کے جھنجھارپور سے گزرنے والی کملا بلان ندی کی پانی کی سطح اس سال اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ ندی کے پانی کی سطح خطرے کے نشان (سرخ نشان 50.50 میٹر) سے 190 سینٹی میٹر بلند ہو چکی ہے اور اب بھی بڑھ رہی ہے۔ پانی کی موجودہ سطح 52.40 میٹر ہے۔ پانی کی سطح مسلسل بڑھنے کی وجہ سے جھنجھار پور کو نیشنل ہائی وے 57 سے جوڑنے والی لنک روڈ پر سڑک کا پل شدید دباؤ میں ہے۔ پل کا گرڈر ڈوب گیا ہے۔ فلڈ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے فلڈ کنٹرول روم کے مطابق اگر پانی کی سطح میں اضافہ جاری رہا تو سیلاب کا پانی کسی بھی وقت پل کے اوپر سے بہنا شروع ہو سکتا ہے جس سے ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہو سکتی ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan

You Might Also Like

توانائی بحران کے خدشات کے درمیان وزیراعظم مودی کی پرسکون رہنے کی اپیل
بھارت نے ممکنہ اسٹریٹجک میزائل ٹیسٹ سے قبل بنگال کے بڑے خلیج میں بڑے پیمانے پر NOTAM جاری کیا
سپریم کورٹ 2021 کی پرائیویسی پالیسی کے تنازع پر سی سی آئی کے 213 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف میٹا اور واٹس ایپ کی اپیلوں کی سماعت کرے گا۔
اگستا ویسٹ لینڈ اسکینڈل کیس میں کرسچین مشیل کی رہائی کا مطالبہ مسترد
آندھرا پردیش میں سڑک حادثہ، 6 افراد ہلاک، 20 زخمی

Sign Up For Daily Newsletter

Be keep up! Get the latest breaking news delivered straight to your inbox.
[mc4wp_form]
By signing up, you agree to our Terms of Use and acknowledge the data practices in our Privacy Policy. You may unsubscribe at any time.
Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Telegram Copy Link Print
Share
What do you think?
Love0
Sad0
Happy0
Angry0
Wink0
Previous Article سلی گوڑی میں سیاحوں کے لیے ہیلپ ڈیسک کھولا گیا۔
Next Article ویسٹ انڈیز کے سابق آل راؤنڈر برنارڈ جولین کا 75 سال کی عمر میں انتقال۔
Leave a Comment Leave a Comment

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Stay Connected

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
- Advertisement -
Ad imageAd image

Latest News

بھارتی اسٹاک مارکیٹس روپے کے گرنے اور خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان سرخ رنگ میں کھل گئیں
Business
May 23, 2026
مرکز نے مہاراشٹر کے اقدام کے بعد کانگریس کے زیر انتظام ریاستوں کو ہوا بازی کے ایندھن پر وی اے ٹی کم کرنے پر زور دیا
National
May 23, 2026
سپریم کورٹ نے اقتصادی طور پر ترقی یافتہ او بی سی خاندانوں کے لئے ریزرویشن کے فوائد پر سوال اٹھائے
National
May 23, 2026
لکھنؤ سپر جائنٹس اور پنجاب کنگز نے آئی پی ایل 2026 کے مقابلے کی تیاری شروع کردی
Sports
May 23, 2026

//

We are rapidly growing digital news startup that is dedicated to providing reliable, unbiased, and real-time news to our audience.

We are rapidly growing digital news startup that is dedicated to providing reliable, unbiased, and real-time news to our audience.

Sign Up for Our Newsletter

Sign Up for Our Newsletter

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

Follow US

Follow US

© 2026 cliQ India. All Rights Reserved.

CliQ INDIA Urdu
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?