صنعتکار ہیرانندانی کے حلف نامے کی وجہ سے مہوا موئترا کی مشکلیں بڑھیں
کولکاتا، 20 اکتوبر (ہ س)۔ مغربی بنگال کی حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کی مشکلات بڑھ گئیں۔ اڈانی گروپ کے حریف صنعتکار درشن ہیرانندانی سے کروڑوں روپے اور مہنگے تحائف لیکر پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کے الزامات میں نیا موڑ آیا ہے۔ ہیرانندانی نے ان الزامات کو صحیح قرار دیا ہے۔ انہوں نے حلف نامہ دیکر اعتراف کیا ہے کہ مہوا نے اس سے پیسے اور مہنگے تحائف لیے تھے۔ اس انکشاف کے بعد موئترا کی پارٹی ترنمول کانگریس بھی بیک فٹ پر ہے۔ تاہم مہوا نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیرانندانی نے ایسا حلف نامہ بی جے پی کے دباو میں دیا ہے۔
لوک سبھا اسپیکر اوم برلا اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں سوال پوچھنے کے لیے رشوت لینے کا الزام بہت سنگین ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ماضی میں بھی ایسے معاملات میں ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت ختم کرنے کا ریکارڈ موجود ہے۔ بہت ممکن ہے کہ مہوا کو یہ دن دیکھنا پڑے۔ اگر ایسا ہوا ہے تو لوک سبھا انتخابات سے پہلے ترنمول کانگریس کے لیے یہ ایک بڑا دھچکا ہوسکتا ہے۔ لوک سبھا اسپیکر نے اس معاملے کو پارلیمنٹ کی اسپیکر کمیٹی کے پاس بھیج دیا ہے۔ کمیٹی نے دونوں کو 26 اکتوبر کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے بلایا ہے۔
ایک دن پہلے جمعہ کو ایتھکس کمیٹی کے چیئرمین ونود سونکر نے کہا تھا کہ انہیں مہوا موئترا کے خلاف پارلیمنٹ میں ‘سوال پوچھنے کے لیے نقد رقم لینے کے معاملے سے متعلق درشن ہیرانندانی کا خط ابھی تک نہیں ملا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھے خط میں کہا تھا کہ مہوا موئترا نے تاجر درشن ہیرانندانی سے پیسے لیکر پارلیمنٹ میں سوال پوچھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ استحقاق کی سنگین خلاف ورزی، ایوان کی توہین اور آئی پی سی کی دفعہ 120 کے تحت ایک جرم ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے ایک وکیل نے بھی سی بی آئی ڈائریکٹر کو خط لکھ کر ایسا ہی دعویٰ کیا تھا اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
