راہول گاندھی کی شہریت کیس: الہ آباد ہائی کورٹ نے مرکز سے فائلیں طلب کیں، FIR پر فیصلہ 19 مارچ کو
الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے کانگریس رہنما راہول گاندھی کی شہریت کی حیثیت پر سوال اٹھانے والی ایک درخواست کے سلسلے میں مرکزی وزارت داخلہ سے ریکارڈ طلب کیا ہے۔ عدالت نے ایک عبوری ہدایت جاری کی ہے جس میں مرکزی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اگلی سماعت سے قبل اس معاملے سے متعلق متعلقہ دستاویزات پیش کرے۔ اس کیس نے کافی سیاسی اور قانونی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ درخواست میں گاندھی کی شہریت سے متعلق الزامات پر فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (FIR) درج کرنے کی ہدایت طلب کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران، بنچ نے درخواست گزار کی جانب سے پیش کردہ دلائل کا جائزہ لیا اور وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ فائلیں اور دستاویزات عدالت کے سامنے پیش کرے۔ درخواست گزار نے الزام لگایا ہے کہ راہول گاندھی نے کسی وقت غیر ملکی شہریت حاصل کی ہو سکتی ہے اور اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عدالت نے اس مرحلے پر الزامات کی خوبیوں پر کوئی رائے ظاہر نہیں کی ہے بلکہ درخواست میں کیے گئے دعووں کا جائزہ لینے کے لیے سرکاری ریکارڈ طلب کیا ہے۔
یہ کیس ماضی میں راہول گاندھی اور برطانیہ میں رجسٹرڈ ایک کمپنی کے درمیان مبینہ روابط کے بارے میں اٹھائے گئے سوالات کے گرد گھومتا ہے۔ درخواست گزار کا دعویٰ ہے کہ کمپنی سے متعلق کچھ دستاویزات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ گاندھی نے سرکاری کاغذات میں خود کو برطانوی شہری قرار دیا ہو سکتا ہے۔ ان الزامات کی بنیاد پر، درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ حکام کو FIR درج کرنے اور مناسب تحقیقات کرنے کی ہدایت کرے۔
درخواست گزار کے وکیل نے دلیل دی کہ اگر یہ دعوے درست پائے جاتے ہیں تو یہ ہندوستانی شہریت کے قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق، ہندوستانی شہری ہوتے ہوئے کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنا شہریت ایکٹ کے تحت سنگین قانونی سوالات اٹھائے گا۔ لہٰذا، درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرنے کی ہدایت دی جائے۔
کارروائی کے دوران، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ FIR درج کرنے کی درخواست کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سرکاری ریکارڈ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ لہٰذا، بنچ نے وزارت داخلہ سے کہا کہ وہ اس معاملے سے متعلق تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کرے۔ ان ریکارڈز سے یہ واضح ہونے کی توقع ہے کہ آیا حکومت نے پہلے اس مسئلے کا جائزہ لیا تھا اور اگر کوئی نتیجہ نکلا تھا تو وہ کیا تھا۔
عدالت نے اگلی سماعت
راہول گاندھی کی شہریت کا معاملہ: ہائی کورٹ میں 19 مارچ کو اہم سماعت
اس معاملے کی سماعت 19 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ اس تاریخ پر، بنچ مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کا جائزہ لے گا اور یہ طے کرے گا کہ آیا مزید کارروائی کی ضرورت ہے۔ عدالت درخواست گزار کی ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی درخواست پر بھی غور کرے گی۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتیں ایسے معاملات میں کسی بھی فوجداری تحقیقات کا حکم دینے سے پہلے دستاویزی شواہد کا بغور جائزہ لیتی ہیں۔ ہائی کورٹ کا وزارت داخلہ سے ریکارڈ طلب کرنے کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ مزید کارروائی سے قبل حقائق کی تصدیق کرنا چاہتی ہے۔
راہول گاندھی کی شہریت کا معاملہ گزشتہ برسوں میں کئی بار سیاسی بحثوں میں سامنے آیا ہے۔ تاہم، کانگریس پارٹی نے ایسے الزامات کو مسلسل مسترد کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ راہول گاندھی ایک ہندوستانی شہری ہیں اور اس کے برعکس دعوے سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔
کانگریس رہنماؤں نے پہلے بھی یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اسی طرح کی شکایات کا پہلے بھی سرکاری حکام نے جائزہ لیا تھا اور انہیں بے بنیاد پایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ الزامات اپوزیشن رہنما کو نشانہ بنانے اور سیاسی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے بار بار اٹھائے جاتے ہیں۔
فی الحال، ہائی کورٹ نے اپنا کردار صرف پیش کردہ مواد کا جائزہ لینے تک محدود رکھا ہے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کے حوالے سے کوئی حکم جاری نہیں کیا ہے۔ 19 مارچ کو ہونے والی آئندہ سماعت اہم ہونے کی توقع ہے، کیونکہ عدالت مرکزی حکومت کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی کہ آیا مزید قانونی کارروائی کی ضرورت ہے۔
اس پیش رفت نے ایک بار پھر اس معاملے کو عوامی بحث میں لا کھڑا کیا ہے، جو قومی رہنماؤں سے متعلق ہائی پروفائل مقدمات میں قانون اور سیاست کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتا ہے۔
