اسرائیل-حماس اور روس-یوکرین بھی ایجنڈے میں، جنگ بندی پر بات ہوگی
دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ تعاون پر بات چیت کو مزید آگے بڑھائیں گے
نئی دہلی، 03 نومبر (ہ س)۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان دو جمع دو مذاکرات 10 نومبر کو نئی دہلی میں ہوں گے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن بھی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان پالیسی اور دفاعی معاملوں کے بارے میںاعلیٰ سطحی گفتگو کے ساتھ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ اور یوکرین کے خلاف روس کے جنگ کو بھی ایجنڈے میں رکھا گیا ہے ۔
تاہم اس دو جمع دو مذاکرات کے حوالے سے بھارتی وزارت دفاع اور خارجہ کی جانب سے کوئی باضابطہ معلومات نہیں دی گئی ہیں تاہم اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور ڈونلڈ لو کا کہنا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن 10 نومبر کو بھارت میں ہوں گے۔ ان کے ساتھ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن بھی شامل ہوں گے۔ وہ سالانہ دو جمع دو ڈائیلاگ کے لیے ہندوستان جائیں گے۔ اس بات چیت کے ذریعے دونوں ممالک کے وزرائے دفاع اور خارجہ اپنے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ دفاع اور تعاون پر بات چیت کو آگے بڑھائیں گے۔
دراصل، امریکہ اور ہندوستان کے درمیان دو جمع دو ڈائیلاگ پلیٹ فارم 2018 میں بنایا گیا تھا۔ یہ دونوں ممالک کو سٹریٹجک اور دفاعی امور کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر بات چیت کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ لہٰذا بات چیت کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ سیکرٹری خارجہ اور دیگر سینئر بھارتی حکام کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔
اسی طرح امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا دورہ بھارت ان کے دورہ ایشیاء کا ایک اہم حصہ ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور دفاعی سکریٹری گردھار ارمانے کے ساتھ 2 2 بات چیت کے دوسرے نکات میں سے ایک انڈو پیسیفک کو آزاد، کھلا، خوشحال اور محفوظ رکھنے کے لیے ہندوستان کے ساتھ تعاون پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازع اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کو بھی اجلاس کے ایجنڈے میں رکھا گیا ہے اور دونوں ممالک کے رہنماو¿ں کے درمیان اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اپنے تحفظ کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔کوشش کرنی ہوگی کہ جو ہوا وہ دوبارہ نہ ہو۔ کوئی بھی ملک اپنے شہریوں کے قتل عام کو برداشت نہیں کرے گا۔ ہم اس کے پیچھے کھڑے ہیں، لیکن جمہوریت کے طور پر، امریکہ اور اسرائیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تنازعے کے راستے میں پھنسے شہریوں کی حفاظت کریں۔ انہوں نے کہا کہ حماس قابل مذمت، شیطانی اور جان بوجھ کر مردوں، عورتوں اور بچوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
