بنگال میں لوک سبھا انتخابات سے پہلے علیحدہ ریاست کے مطالبے نے پھر پکڑا زور
کولکاتا، 18 اکتوبر (ہ س)۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے شمالی بنگال میں الگ گورکھا لینڈ کا مطالبہ ایک بار پھر زور پکڑ گیا ہے۔ شمالی بنگال کی آٹھ مقامی جماعتیں اس علاقے کے لیے الگ ریاست کے مطالبے کو لیکر متحد ہو گئی ہیں۔ پارٹیوں نے ایک مشترکہ تنظیم بنائی ہے جس کا نام یونائیٹڈ فرنٹ فار سیپریٹ اسٹیٹ (یو ایف ایس ایس) ہے۔
تنظیم بنانے والی جماعتوں میں گورکھا جن مکتی مورچہ، کامتا پور پروگریس پارٹی، کامتا پور پیپلز پارٹی (یونائیٹڈ)، گریٹر کوچ بہار پیپلز ایسوسی ایشن، جے برسا منڈا اولگلان، ایس سی-ایس ٹی-او بی سی موومنٹ منچ، بھومی پتر یونائیٹڈ پارٹی اور اکھل بھارتیہ راجونشی سماج شامل ہیں۔ نئے امبریلا فرنٹ کی کور کمیٹی میں ان جماعتوں میں سے ہر ایک کا ایک نمائندہ شامل ہے۔ درگا پوجا تہوار کے بعد تنظیم سلی گوڑی میں ایک میگا ریلی کا انعقاد کرے گی، جس کے دوران وہ اپنے مطالبات پیش کریں گے۔ آنے والے وقتوں میں کولکاتا اور نئی دہلی میں بھی اسی طرح کی ریلیاں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔
گورکھا جن مکتی مورچہ کے سربراہ بمل گرونگ نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک بڑے مقصد کے لیے متحد تحریک چلائی جائے، کیونکہ پورا شمالی بنگال طویل عرصے سے محروم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کو مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ اٹھائیں گے۔ دریں اثنا ترنمول کانگریس کی قیادت نے الزام لگایا ہے کہ نئے متحدہ محاذ کو بی جے پی سے خفیہ حمایت مل رہی ہے۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی کے کئی منتخب ایم ایل اے ماضی میں اس خطے میں علیحدہ ریاست کی حمایت میں آواز اٹھا چکے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ شمالی بنگال میں علیحدہ گورکھا لینڈ کے مطالبے پر کئی بڑی پرتشدد تحریکیں ہوچکی ہیں۔ 2017 میں، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی 107 دنوں تک جاری رہنے والے شدید احتجاج کے دوران پھنس گئی تھیں۔
ہندوستھان سماچار
/شہزاد
