ممبئی، 09 دسمبر (ہ س)۔ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) اور انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) کی ٹیم نے ہفتہ کی صبح مہاراشٹر میں 44 مقامات پر چھاپے مارے اور 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ این آئی اے کی ٹیم نے ان کے پاس سے موبائل فون اور لیپ ٹاپ اور کچھ دیگر اشیا برآمد کی ہیں۔ تاہم این آئی اے کی جانب سے اس سلسلے میں ابھی تک کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، این آئی اے کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات کی بنیاد پر، این آئی اے اور اے ٹی ایس کی ٹیم نے مشترکہ طور پر مہاراشٹر کے پونے میں 1، تھانے دیہات میں 31، تھانے شہر میں 1 اور بھئیندر میں 1، ممبئی میں 1 ، اس طرح 44 مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پونے میں مشتبہ افراد شعیب علی شیخ اور انور علی شیخ کے گھر پر چھاپے ماری کے دوران لیپ ٹاپ، موبائل اور دیگر اشیا ضبط کر لی گئی ہیں۔ یہاں سے پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اسی طرح این آئی اے کی ٹیم نے بھیونڈی، تھانے کے پڈگھا بوریوالی میں بھی چھاپہ مارا اور دس لوگوں کو حراست میں لیا۔ ان سب سے پوچھ گچھ کی جائے گی اور بعد میں ضرورت پڑنے پر گرفتار کیا جائے گا۔ این آئی اے کی ٹیم نے آج ممبئی کے اندھیری کارگو علاقے میں بھی چھاپہ مارا ہے۔ اس کارروائی کو انتہائی خفیہ رکھا گیا ہے۔
معلومات کے مطابق پونے اور بھیونڈی میں این آئی اے کی ٹیموں نے پہلے آئی ایس آئی ایس ماڈیول سے وابستہ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔ اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان سبھی کو ہندوستان میں دہشت گردانہ سرگرمیاں پھیلانے کی ہدایات بیرون ملک سے ملی تھیں۔ ان سب کی مکمل جانچ کے بعد این آئی اے کو پتہ چلا کہ گرفتار کیے گئے تمام افراد کو بم دھماکوں اور ہتھیاروں کی ہینڈلنگ کی ٹریننگ دی گئی تھی اور وہ بیرون ملک سے پیسے حاصل کرتے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ آج این آئی اے ٹیم کو مشتبہ افراد سے بم بنانے سے متعلق کاغذات بھی ملے ہیں۔ فی الحال اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش جاری ہے۔
ہندوستھان سماچار
