
رتلام/ بھوپال، 4 نومبر (ہ س)۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ ملک ہو یا ریاست، کانگریس کے پاس صرف جھوٹے اعلانات ہی رہ گئے ہیں۔مدھیہ پردیش کی ترقی کا ٹھوس روڈ میپ کیا ہوگا کانگریس لیڈران یہ سوچ بھی نہیں سکتے ۔ کانگریس لیڈر فلمی ہیں۔ ان کے ڈائیلاگ اور اعلانات بھی فلمی ہیں۔ جب کردار فلمی ہو تو سین بھی فلمی ہوگا۔ یہاں کانگریس کے دو لیڈروں کے درمیان کپڑے پھاڑنے کا مقابلہ چل رہا ہے۔ ابھی یہ فلم کا ٹریلر ہے۔ وہ اپنے اپنے چیلوں سے کہتے ہیں، اس کے بعد یہ اپنے تو پھاڑیں گے،آپ کے بھی پھاڑ دیں گے۔
وزیر اعظم مودی ہفتہ کو مدھیہ پردیش کے رتلام کے بنجلی گراؤنڈ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ رتلام اپنے ذائقے کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اگر کوئی رتلام آئے اور رتلامی سیو نہ کھائے تو اسے رتلام آیا ہی نہیں سمجھا جاتا ہے۔ عوام کی زبردست حمایت سے صاف ہے کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی دوبارہ حکومت بنانے جا رہی ہے۔ جب بی جے پی 3 دسمبر کو حکومت کی واپسی کا جشن منائے گی تو لڈو کے ساتھ رتلامی سیو بھی کھائی جائے گی۔
مودی نے کہا کہ مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حمایت میں چلرہی آندھی حیرت انگیز ہے۔ جو لوگ دہلی میں بیٹھ کر گنا-بھاگ (ضرب- تقسیم) کرتے ہیں، ان کا حساب بدل جائے گا۔ بحث اس بات پر نہیں ہوگی کہ کون جیتے گا۔ بحث یہ ہوگی کہ آیا بی جے پی مدھیہ پردیش میں دو تہائی اکثریت کا ہندسہ عبور کر پاتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش کے لوگوں کا بی جے پی پر اس وقت سے بھروسہ ہے جب ملک میں بی جے پی کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے۔ آج بی جے پی دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے۔ مرکز میں 10 سال سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ بی جے پی حکومت کے دور میں ہندوستان چاند پر پہنچ گیا۔ مدھیہ پردیش نے بھی ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مدھیہ پردیش کے دماغ میں مودی ہے اور مدھیہ پردیش مودی کے دماغ میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہاں کے کانگریسی لیڈر کیوں لڑ رہے ہیں؟ یہ صرف وزیراعلیٰ کی کرسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں ان کی دال گلنے والی نہیں ہے۔ یہ دونوں رہنما اپنے اپنے بیٹوں کے لیے لڑ رہے ہیں۔ لڑائی اس بات کی ہے کہ کس کا بیٹا مدھیہ پردیش کانگریس کو سنبھالے گا۔ کانگریس صرف خاندان پرستی کا جھنڈا لہرا سکتی ہے۔ مدھیہ پردیش کا جھنڈا لہرانا کانگریس کے بس میں نہیں ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ میں ضمانت دیتا ہوں کہ آپ کا خواب مودی کا عزم ہے۔ غریب سے غریب کو بااختیار بنانا بی جے پی کا عزم ہے۔ غریب کا خواب ہوتا ہے پکے گھر کا۔ جب مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی تو انہیں گھر بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ یہ مرکز کی بی جے پی حکومت ہے جس نے پچھلے 10 سالوں میں 4 کروڑ گھر دیے ہیں، مدھیہ پردیش میں تقریباً 50 لاکھ خاندانوں کو پی ایم آواس گھر ملے ہیں۔ رتلام میں 90 ہزار پی ایم ہاؤسنگ ہاؤس بنائے گئے ہیں۔ یہ لاکھوں روپے کے گھر ہیں۔ زیادہ تر رجسٹریاں بہنوں کے نام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہنوں کو یاد کرو تو ماما یاد آہی جاتا ہے۔ یہاں کی ہزاروں خواتین لکھ پتی بن چکی ہیں۔ آزادی کے اتنے سالوں بعد بھی ملک میں متوسط طبقے کے لوگوں کے لیے مکان نہیں بنائے گئے۔ مودی پہلے وزیر اعظم ہیں جنہوں نے غریبوں کے لیے منصوبہ بندی کی۔ یہ بی جے پی ہی ہے جس نے غریبوں کو مفت راشن دیا۔ بھوک کیا ہوتی ہے یہ ایک غریب ہی سمجھ سکتا ہے۔
ملک میں پچھلے تین سالوں سے غریبوں کو مفت راشن دیا جا رہا ہے۔ میرا ایک اور عزم ہے، 80 کروڑ غریبوں کو مفت راشن فراہم کرنے کی اسکیم دسمبر میں ختم ہو رہی ہے۔ آنے والے پانچ سالوں میں اسے مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ مودی جب گارنٹی دیتے ہیں تو گارنٹی پوری کرنے کی گارنٹی بھی دیتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ریاستی حکومت کی لاڈلی بہنا یوجنا اور لاڈلی لکشمی یوجنا کی سب نے تعریف کی ہے۔ پردھان منتری ماترووندنا یوجنا اچھی غذائی خوراک کے لیے چل رہی ہے۔ بی جے پی نے خواتین کو دی گئی ہر ضمانت کو پورا کیا ہے۔ کانگریس ایک ایسی پارٹی ہے جسے خاندان سے آگے کچھ نظر نہیں آتا۔
ہندوستھان سماچار//سلام
