چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کی تحریک، اپوزیشن نے 180 ارکان کے دستخط حاصل کر لیے
بھارت کے سیاسی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں نے مبینہ طور پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو ہٹانے کی تحریک پیش کرنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کر لی ہے۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق، اپوزیشن اتحاد نے ارکان پارلیمنٹ سے دستخط جمع کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے اور اس تجویز کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی یہ نوٹس پارلیمنٹ کے جاری اجلاس کے دوران جمعرات یا جمعہ کو پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اگر اسے باضابطہ طور پر پیش کیا جاتا ہے تو یہ بھارت کی پارلیمانی تاریخ میں ایک نایاب اور تاریخی طور پر اہم قدم ہوگا، کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ایسی کارروائیاں انتہائی غیر معمولی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، اس نوٹس پر لوک سبھا کے تقریباً 120 اور راجیہ سبھا کے تقریباً 60 ارکان پارلیمنٹ پہلے ہی دستخط کر چکے ہیں۔ یہ تعداد پارلیمانی قواعد کے تحت اس عمل کو شروع کرنے کے لیے درکار کم از کم ضرورت سے زیادہ ہے۔
یہ پیش رفت اپوزیشن جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے درمیان انتخابی عمل، ووٹر فہرستوں میں ترمیم اور ملک میں انتخابات کرانے کے ذمہ دار آئینی ادارے کے کام کاج سے متعلق الزامات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے۔
دستخط کی ضرورت اور آئینی طریقہ کار
بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا عمل ایک سخت آئینی طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے کے طریقہ کار سے مشابہت رکھتا ہے۔ یہ عمل الیکشن کمیشن کی آزادی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ احتساب کا ایک طریقہ کار بھی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
موجودہ پارلیمانی قواعد کے تحت، چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی تحریک کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے ارکان پارلیمنٹ کی کم از کم تعداد کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔
لوک سبھا میں، تحریک کی تجویز پیش کرنے والی نوٹس پر کم از کم 100 ارکان پارلیمنٹ کے دستخط ضروری ہیں۔ راجیہ سبھا میں، اس تحریک کے لیے کم از کم 50 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہے۔
ذرائع کے مطابق، اپوزیشن اتحاد نے ان حدوں کو آسانی سے عبور کر لیا ہے۔ اب تک جمع کیے گئے دستخطوں میں انڈیا اتحاد سے تعلق رکھنے والی متعدد جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، جو اپوزیشن جماعتوں کے درمیان اس معاملے کو آگے بڑھانے کی مربوط کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔
**چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا عمل: پارلیمانی قواعد اور اپوزیشن کے سنگین الزامات**
تجویز پیش ہونے کے بعد، لوک سبھا کے اسپیکر یا راجیہ سبھا کے چیئرمین اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا تحریک طریقہ کار کی ضروریات کو پورا کرتی ہے، اس سے پہلے کہ یہ فیصلہ کیا جائے کہ آیا اسے بحث کے لیے منظور کیا جا سکتا ہے۔
اگر تحریک دونوں ایوانوں میں منظور ہو جاتی ہے، تو اگلا قدم تجویز میں مذکور الزامات کی جانچ کے لیے ایک انکوائری کمیٹی کی تشکیل شامل ہے۔
ججز (انکوائری) ایکٹ 1968 کے مطابق، اگر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیک وقت نوٹس جمع کرائے جاتے ہیں، تو تحقیقاتی کمیٹی صرف اس صورت میں تشکیل دی جاتی ہے جب تحریک کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا جائے۔
ایسے معاملات میں، لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئرمین مشترکہ طور پر تین رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دیتے ہیں۔ یہ کمیٹی آئینی اتھارٹی کے خلاف لگائے گئے الزامات کی جانچ کرتی ہے اور اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کرتی ہے۔
اگر کمیٹی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ الزامات درست ہیں، تو تحریک کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث اور ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔
چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کامیاب ہونے کے لیے، قرارداد کو دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے، یعنی ایوان کی کل رکنیت کی اکثریت اور حاضر اور ووٹ دینے والے اراکین کے کم از کم دو تہائی کی اکثریت۔
اس عمل کی تکمیل کے بعد ہی چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
**اپوزیشن کے الزامات اور سیاسی تناظر**
اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے بعض حالات میں حکمران حکومت کو فائدہ پہنچانے والے انداز میں کام کیا ہے۔ انتخابی فہرستوں میں ترمیم اور ووٹر لسٹ کی تصدیق کے عمل سے متعلق تنازعات کے بعد حالیہ مہینوں میں یہ الزامات شدت اختیار کر گئے ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے اٹھائے گئے اہم مسائل میں سے ایک الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) سے متعلق ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کو بعض ریاستوں میں ووٹر فہرستوں میں ہیرا پھیری اور جائز ووٹروں کو ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق، نظرثانی کا عمل مخصوص برادریوں اور سیاسی حلقوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر سکتا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے اقدامات ممکنہ طور پر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور انتخابی عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے عمل کے بارے میں خدشات مغربی بنگال میں خاص طور پر شدید رہے ہیں، جہاں ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے عوامی طور پر
الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹوں میں گڑبڑ کا الزام، اپوزیشن ہٹانے کی تحریک لانے پر غور
الیکشن کمیشن پر انتخابی فہرستوں سے حقیقی ووٹروں کے نام ہٹانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس عمل سے قومی سطح پر حکمران جماعت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
کئی ریاستوں میں اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کیا ہے، ان کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن کو اپنے کام میں مکمل طور پر غیر جانبدار اور شفاف رہنا چاہیے۔
تاہم، الیکشن کمیشن آف انڈیا نے مسلسل یہ مؤقف اپنایا ہے کہ اس کے طریقہ کار طے شدہ قواعد کے مطابق ہیں اور ووٹر فہرستوں کی درستگی اور سالمیت کو یقینی بنانے کے لیے انجام دیے جاتے ہیں۔
کمیشن کے حکام نے ماضی میں کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ترامیم معمول کی انتظامی مشقیں ہیں جن کا مقصد دوہری اندراجات کو ہٹانا، غلطیوں کو درست کرنا اور انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ رکھنا ہے۔
ان وضاحتوں کے باوجود، تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی کارروائی پر غور کر رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہٹانے کی تحریک پیش کرنے کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کی ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ بھی ہو سکتا ہے تاکہ جمہوری اداروں اور انتخابی شفافیت کے بارے میں خدشات کو اجاگر کیا جا سکے۔
اسی دوران، ماہرین کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے اور اس کے لیے وسیع پارلیمانی اتفاق رائے کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے نتیجہ غیر یقینی ہو جاتا ہے۔
اگرچہ تحریک باضابطہ طور پر پیش کی جاتی ہے، اسے کئی طریقہ کار کے مراحل سے گزرنا پڑے گا اور کوئی بھی حتمی فیصلہ ہونے سے پہلے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مضبوط حمایت حاصل کرنی ہوگی۔
ایک نایاب آئینی پیش رفت
مجوزہ تحریک نے توجہ حاصل کی ہے کیونکہ بھارت کی سیاسی تاریخ میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کی کوششیں نایاب ہیں۔
الیکشن کمیشن ایک آئینی طور پر محفوظ ادارہ ہے جو پارلیمنٹ، ریاستی قانون ساز اسمبلیوں اور صدر و نائب صدر کے عہدوں کے لیے انتخابات کرانے کا ذمہ دار ہے۔
جمہوریت کے تحفظ میں اس کے اہم کردار کی وجہ سے، آئین چیف الیکشن کمشنر کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزادی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اسی کے ساتھ، پارلیمانی عمل کے ذریعے ہٹانے کی اجازت دینے والی شق اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اگر سنگین الزامات سامنے آئیں تو یہ عہدہ جوابدہ رہے۔
اگر یہ تحریک باضابطہ طور پر پارلیمنٹ میں پیش کی جاتی ہے، تو اس سے الیکشن کمیشن کے کام کاج، انتخابی اصلاحات اور بھارت کی جمہوریت میں آئینی اداروں کے کردار پر شدید بحث چھڑنے کا امکان ہے۔
لہٰذا آنے والے دنوں میں اہم سیاسی
اپوزیشن اپنے منصوبے کے ساتھ آگے بڑھنے کو تیار: اہم پارلیمانی پیش رفت
اپوزیشن کی جانب سے اپنی تجویز کے ساتھ آگے بڑھنے کی تیاری کے پیش نظر سیاسی اور پارلیمانی پیش رفت جاری ہے۔
