پونے،
28 جولائی (ہ س)۔
پونے کے پمپری چنچواڑعلاقے میں جبراً مذہب تبدیل
کرانے کی کوشش کے الزام میں پولیس نے تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے جن میں ایک
امریکی شہری بھی شامل ہے۔ پولیس اس معاملے کی باریکی سے تفتیش کر رہی ہے اور شواہد
جمع کیے جا رہے ہیں۔
یہ
کارروائی سنی بنسی لال دانانی نامی 27 سالہ نوجوان کی شکایت پر کی گئی، جو پمپری کیمپ
میں ویشنو دیوی مندر کے قریب سکونت پذیر ہے۔ دانانی کے مطابق، اس پر عیسائیت اختیار
کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، ذہنی اذیت دی گئی اور یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ یسوع
کو خدا ماننے پر اسے خوشی، ذہنی سکون، دولت اور بہتر زندگی ملے گی۔ مزید برآں،
دوسرے مذاہب کو جھوٹی کہانیاں قرار دے کر اس کے عقائد کی توہین کی گئی اور مالی
مدد کا جھانسا دے کر مذہب تبدیل کروانے کی کوشش کی گئی۔
پولیس
نے شکایت کی بنیاد پر شیفر جیوین جیکب (41 سال، کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والا اور
اس وقت مکئی چوک، پونے میں مقیم)، اسٹیون وجے کدم (46 سال، ادیم نگر، اجمرا، پمپری،
پونے کا رہائشی) اور ایک نامعلوم شخص کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ان پر بھارتیہ نیائے
سہنتا (بی این ایس) کی دفعہ 299، 3 (5) اور فارنرز ایکٹ کی دفعہ 14 (اے) (بی)کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے
ملزمان سے دو موبائل فون برآمد کیے ہیں۔تحقیقات
کا ذمّہ سب انسپکٹر وجے پاٹل کو سونپا گیا ہے، جو پورے معاملے کے مختلف پہلوؤں کا
جائزہ لے کر قانونی کارروائی میں مصروف ہیں۔
ہندوستھان
سماچار
ہندوستان سماچار / خان این اے
