اسلام آباد، 05 جنوری (ہ س)۔ پاکستان میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جمعہ کو تاحیات نااہلی معاملے کی سماعت دوبارہ شروع کی۔ اس معاملے پر آنے والا فیصلہ اس بات کا تعین کرے گا کہ آیا آرٹیکل 62(1) کے تحت ترمیم شدہ الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت الیکشن لڑنے کے لئے ممبران پارلیمنٹ اورممبران ریاستی اسملیز کی نااہلی تاحیات ہے یا پانچ سال کے لیے ہے ۔ بینچ کے چیئرمین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہیں۔
پاکستانی اخبار دی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے سابق صوبائی ایم ایل اے سردار میر بادشاہ خان قیصرانی کی درخواست پر سماعت کی۔ قیصرانی نے 2007 میں فرضی ڈگری معاملے میں اپنی تاحیات نااہلی کو چیلنج کیا تھا۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں سات رکنی بینچ میں جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل پر کارروائی براہ راست نشر کی جا رہی ہے۔
جمعرات کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے کہ کسی کو تاحیات پارلیمنٹ سے نااہل قرار دینا ‘اسلام کے خلاف’ ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس معاملے کا حل اسلام میں موجود ہے۔ قرآن پاک میں انسان کا درجہ بہت بلند ہے۔ انہوں نے ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان برے نہیں ہیں لیکن ان کے اعمال برے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اللہ نے ایسا نہیں کیا تو عدالت توبہ کا دروازہ کیسے بند کر سکتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
