کاٹھمنڈو، 18 نومبر (ہ س)۔ نیپال فی الحال چین کی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو ریلیف دینے کے حق میں نہیں ہے۔ نیپال میں ٹک ٹاک پر پابندی کے بعد یہ چینی کمپنی مشکل میں پھنس گئی ہے۔ ٹک ٹاک نے تقریباً 30 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا اور نیپال حکومت کو خط لکھا۔ خط میں نیپال حکومت سے پابندی ہٹانے کی اپیل کی گئی ہے۔ نیپال نے فی الحال پابندی واپس لینے سے انکار کر دیا ہے۔
اس کمپنی نے نیپال کی ٹیلی کام اتھارٹی کو لکھے ایک خط میں کہا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس حوالے سے تقریباً 29 لاکھ 98 ہزار ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا جا چکا ہے۔ اس لیے حکومت پابندی لگانے کا فیصلہ واپس لے۔ جنوبی ایشیائی ممالک کے لیے ٹک ٹاک کے قانونی مشیر فردوس موتکین نے نیپال حکومت کے فیصلے پر دکھ اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ نیپال حکومت جلد ہی پابندی واپس لے لے گی۔
نیپال ٹیلی کام اتھارٹی کے چیئرمین پرشوتم کھنال کا کہنا ہے کہ ٹِک ٹاک کو خط کا جواب دے دیا گیا ہے۔ واضح کیا گیا ہے کہ حکومت فی الحال اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ حکومتی ہدایات پر عمل کرنا ٹک ٹاک کمپنی کے مفاد میں ہے۔
ہندوستھان سماچار
