کاٹھمنڈو ، 29 دسمبر (ہ س)۔
حکومت نے ہفتے کے روزکاٹھمنڈو کی سڑکوں پر مظاہروں کے دوران پھوٹنے والے تشدد میں پولیس کے ہاتھوں دو افراد کے ہلاک ہونے کے معاملے میں سخت کارروائی کی۔ حکومت نے فائرنگ کا حکم دینے والے للت پور کے ڈی ایس پی کو معطل کر دیا ہے اور ڈی ایم اور ایس پی کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔ ہر مرنے والے کے لواحقین کے لیے 10 لاکھ روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ تاہم اس واقعے کے خلاف ہفتے کے روز بھی مظاہرے ہوئے۔
دراصل بے روزگار نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان، کھٹمنڈو کے کوٹیشور بالکماری روڈ پر جمعہ کو دن بھر کشیدہ صورتحال رہی۔ روزگار کے لیے کوریا جانے والے لوگوں کے لیے جمعہ کی دوپہر سے ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (ای پی ایس) کا امتحان ہونا تھا، لیکن زیادہ تر نوجوانوں کو اس امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مشتعل نوجوانوں نے سڑک بلاک کرکے احتجاج شروع کردیا۔ نیپال حکومت کے فزیکل پلاننگ اور ٹرانسپورٹ کے وزیر پرکاش جوالا نے کہا کہ بے قابو ہجوم نے انہیں اور ان کے دو سیکورٹی اہلکاروں کو گاڑی سے باہر نکالا اور ان کی سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی۔للت پور کے ایس پی سدھوکرم شاہ نے بتایا کہ جمعہ کو وزیر کی گاڑی کو آگ لگانے کے بعد کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کو گولی چلانا پڑی ، جس میں دو نوجوانوں کی موت ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد پورے شہر میں حکومت کے خلاف پرتشدد مظاہرے شروع ہو گئے جو ہفتے کو بھی جاری رہے۔ اپوزیشن جماعت سے وابستہ طلبہ تنظیموں نے وزیر داخلہ کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
دریں اثنا حکومت نے ہفتے کے روز ہر مرنے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے کے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ پولیس فائرنگ کا حکم دینے والے للت پور کے ڈی ایس پی کو معطل کر دیا گیا ہے۔ آج دوپہر ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں حکومت نے للت پور کے ایس پی اور ڈی ایم کا تبادلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومتی ترجمان اور وزیر اطلاعات و مواصلات ریکھا شرما نے کہا کہ حکومت نے فائرنگ کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
ہندوستھان سماچارمحمدخان
