دوحہ،24اکتوبر(ہ س)۔
فلسطینی کی اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے پیر کے روز کہا ہے کہ اس نے مصر اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کے جواب میں مزید دو خواتین قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حماس کے مسلح ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام پر کہا کہ انہوں نے ’گذشتہ جمعہ سے دشمن کی طرف سے انہیں قبول کرنے سے انکار اور ہمارے قیدیوں کے معاملے کو نظر انداز کرنے کے باوجود قیدیوں کی رہائی کو یقینی بنایا ہے۔ان کے مطابق ’ہم نے انہیں انسانی ہمدردی اور خراب صحت کی بنیاد پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے باوجود دشمن نے گذشتہ جمعے کو انہیں وصول کرنے سے انکار کر دیا۔
خواتین کی شناخت اوشیوڈ لشفڈز اور نوریت کوپر کے نام سے ہوئی ہے۔اسرائیلی وزیراعظم بن یانین نتن یاہو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ خواتین اسرائیلی شہری ہیں جن عمریں 85 اور 7 برس ہیں۔انہوں نے بتایا ہے کہ ان خواتین کے شوہر جن کی عمریں 80 کے پیٹے میں ہیں دیگر 200 یرغمالیوں کے ہمراہ اب بھی حماس کی قید میں ہیں۔گذشتہ تین دنوں کے دوران کل چار خواتین کو حماس نے رہا کر دیا ہے۔رہا کی جانے والی خواتین کو رفح باڈر کراسنگ سے اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے ذریعے تل ابیب کے میڈیکل سینٹر لے جایا گیا جہاں ان کے اہل خانہ ان کے منتظر تھے۔حماس نے جمعے کو بھی دو امریکی خواتین کو رہا کر دیا تھا۔اس حوالے سے قطر کی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے جمعے کے روز کہا تھا کہ غزہ سے امریکی خواتین کی رہائی تمام فریقوں کے ساتھ ’کئی دنوں تک مسلسل رابطے میں رہنے‘ کے بعد ہوئی ہے۔دوسری جانب اسرائیل نے سات اکتوبر سے اب تک سینکڑوں جگہوں کو بشمول ہسپتالوں ، مسجدوں اور سکولوں کے اپنی بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔غزہ کی وزارت صحت نے پیر کے روز جاری کردہ اعدادو شمار میں بتایا ہے کہ پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران 436 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ یہ شہادتیں 320 جگہوں پر اسرائیل کی تازہ بمباری کے باعث ہوئی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ بمباری کا نشانہ ایک سرنگ بھی بنی ہے۔ اب تک فلسسطینیوں کی مجموعی شہادتوں کی تعداد پانچ ہزار سے متجاوز ہو چکی ہے۔
عرب دنیا کے علاوہ روس، پاکستان سمیت کئی یورپی ملکوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی جائے۔ اسلسلے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرادایں بھی لائی جا چکی ہیں مگر اسرائیل اور امریکہ جنگ بندی پر تیار نہیں ہیں۔
ہندوستھان سماچار
