تل ابیب،04دسمبر(ہ س)۔
اسرائیل کے فوجی ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کے روز یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جن دو بحری جہازوں پر حملہ کیا وہ اسرائیلی جہاز نہیں ہیں، تاہم فوجی ترجمان ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے اس بارے میں صحافیوں کے لئے خصوصی بریفنگ کا اہتمام کرنے کے باوجود یہ نہیں بتایا کہ بحری جہاز کس ملک کے تھے اور یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے انہیں کیوں اپنے راکٹ حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ایڈمرل ہگاری نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ اس بریفنگ سے قبل ان کی امریکی سینٹ کام کے حکام کے ساتھ بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں ترجمان کا کہنا تھا کہ اتوار کے روز حوثیوں کے حملوں کی زد میں آنے والے دو بحری جہازوں میں سے ایک کو ہلکا سا نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ ترجمان زیادہ نقصان پہنچنے سالے جہاز کے ڈوب جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔
واضح رہے حوثیوں نے اتوار کے روز دعوی کیا تھا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں دوجہازوں ، یونٹی ایکسپلورر اور نمبر 9 پر راکٹوں سے حملے کئے ہیں۔ حوثیوں نے اس سے پہلے بھی بحیرہ احمر میں اسرائیلی اور اسرائیل کی مدد کے لئے موجود ملکوں کے اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ اب تازہ حملے حوٹیوں کی بحریہ سے منسوب کئے گئے ہیں۔اسرائیلی فوج نے اپنے وضاحتی بریفنگ کے دوران ایک سے زیادہ بار یہ کہا کہ وہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیلی جہاز حملے کا نشانہ نہیں بنے ہیں۔ تاہم انہوں نے امریکی حکام کے ساتھ بات چیت کے تناظر میں ان حملوں کا الزام ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں پر ہی عائد کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
